چین کی وزارتِ تجارت نے تصدیق کی ہے کہ چینی ایئر لائنز امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 نئے مسافر طیارے خریدیں گی، جو حالیہ برسوں میں کسی بھی ملک کی جانب سے طیاروں کی خریداری کا سب سے بڑا آرڈر ہے،یہ پیشرفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13 سے 15 مئی تک ہونے والے حالیہ دورہِ چین کے فوراً بعد سامنے آئی ہے، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ سے تفصیلی ملاقات کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: توانائی کے صاف اور قابلِ تجدید ذرائع کا استعمال، چین امریکا پر بازی لے گیا
اس معاہدے میں ابتدائی طور پر 200 طیارے شامل ہیں، لیکن اگر امریکی کمپنی کی کارکردگی اچھی رہی تو یہ تعداد 750 طیاروں تک بڑھائی جاسکتی ہے۔
طیاروں کی اس بڑی ڈیل کے ساتھ ساتھ دونوں عالمی طاقتوں نے سالوں سے جاری ٹیرف کے تنازعات کو کم کرنے کے لیے ایک مستقبل کے ’ٹریڈ کونسل فریم ورک‘ کے تحت ایک دوسرے کی 30 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف کم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
چینی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ٹیرف کی جنگ کو بڑھنے سے روکنا اور تجارتی تعلقات میں استحکام لانا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے مستقل بنیادوں پر تنازعات کو حل کرنے اور پالیسیوں کو مربوط بنانے کے لیے نئے ’ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلز‘ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
معاہدے کے تحت زرعی تجارت کو بھی فروغ دیا جائے گا، جس میں چین امریکی سویا بین، گائے کے گوشت اور مرغی کی درآمدات میں اضافہ کرے گا، جبکہ امریکا چینی سی فوڈ، پھلوں اور ڈیری پروڈکٹس کو اپنی مارکیٹ تک آسان رسائی دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چین امریکا سیزفائر، دونوں ممالک محصولات 3 ماہ کے لیے کم کرنے پر راضی
دوسری جانب اسٹریٹجک معدنیات اور نایاب عناصرکی برآمدات پر بھی بات چیت کی گئی، جہاں چین نے عالمی سپلائی چین کو مستحکم رکھنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی بالادستی کے حوالے سے ساختی تناؤ اب بھی موجود ہے، لیکن یہ حالیہ تجارتی معاہدہ معاشی تعلقات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے دونوں اطراف کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔














