بین الاقوامی اُمور کے ماہر سینیٹر مشاہد حسین سید نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی میں جان نہیں یہ بھارتی کاغذی شیر ہیں۔ بھارتی آرمی چیف کی دھمکی اُن کے بغض، نفرت اور منفی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
وہ جو کہتے ہیں کہ یہ بازو تیرے آزمائے ہوئے ہیں۔ ہم اِن کی قوّت دیکھ چُکے ہیں، اِن کو پھینٹی لگائی ہے جو اُن سے ہضم نہیں ہو رہی۔ وہ جنگ ہارے ہوئے ہیں اور بھارتی آرمی چیف کا بیان ایک ہارے ہوئے جنرل اور ہاری ہوئی سوچ کا بیان ہے۔
بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا خیال کیوں آیا؟
سینیٹر مشاہد حسین نے آر ایس ایس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس بی جے پی کی سرپرست تنظیم ہے۔ اور اُس کی جانب سے مذاکرات کی بات کا آنا ایک اہم بات ہے۔ میرا خیال ہے کہ اُنہوں نے اب دیکھ لیا ہے کہ پاکستان کے بارے میں ہماری پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین کا سیاسی نظام عوامی فلاح پر مرکوز، جدیدیت کے فوائد عوام تک پہنچیں گے، مشاہد حسین سید
بھارت نے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی کوشش کی، پاکستان کو ڈرانے کی کوشش کی، پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، پھر پاکستان کے ساتھ لڑائی بھی کی اور مار بھی کھائی اور اب اُنہوں نے جو بین الاقوامی حالات کو دیکھا ہے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد اس خطے میں کسی نئی جنگ کی کوئی گنجائش نہیں۔
بھارت کا سکیورٹی کونسل کا مستقل رُکن بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت سفارتی طور پر تنہا ہو چُکا ہے اور اِس لیے اُس کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقِل رُکن بنے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو وہ نہیں مانتے۔ سندھ طاس معاہدے کو وہ نہیں مانتے، ہمسایوں کے ساتھ معمول کے تعلقات رکھنے پر وہ یقین نہیں رکھتے۔ اس لیے بھارت نہ صرف اس وقت اس خطے بلکہ دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہے۔ بھارتی کی جتنی کمزور سفارتی پوزیشن اس وقت ہے شاید تاریخ میں کبھی نہ تھی یا شاید 1962 میں تھی جب نہرو کے زمانے میں اُنہیں چین سے مار پڑی تھی۔
بھارت کی سفارتی تنہائی کی وجہ دوسرے ممالک کو ڈرانے کی پالیسی تھی
مشاھد حسین سید نے کہا کہ بھارت کی سفارتی تنہائی کی ایک وجہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہو سکتے ہیں لیکن زیادہ بڑی وجہ اُس کی یہ پالیسی کہ دوسرے ممالک کو ڈرا کے رکھا جائے، دوسرے ممالک کو دبایا جائے اپنی بالادستی قائم کی جائے۔ بھارت کہتا تھا کہ اُس کا حجم اُس کی طاقت ہے اور پاکستان اُس کے حجم کے مساوی نہیں۔ لیکن پاکستان نے ثابت کر دیا کہ حجم اور طاقت کا تال میل نہیں ہوتا اور پاکستان
پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت جنگ کا کوئی خطرہ نہیں
میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا کوئی خطرہ ہے کیونکہ بھارت نے اپنا سبق سیکھ لیا ہے، تین دفعہ اُنہوں نے کوشش کی۔ پلوامہ کے بعد ابھینندن، اُس کو ہم نے چائے بھی پلائی۔ پہلگام واقعہ پاکستان نے نہیں کیا، اُنہوں نے اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے یہ سب کیا اور جھوٹ کی بنیاد پر جنگ کی، اُس میں بھی اُن کو مار پڑی۔ اب وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کریں گے، گند کریں گے اور یہ دہشت گردی کو سپانسر کریں گے، اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں حکمتِ عملی بنائی چاہیئے۔













