جنوبی کوریا صدر نے گھٹنے ٹیک دیے، مارشل لا کے نفاذ پر عوام سے معافی مانگ لی

ہفتہ 7 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی کوریا میں مارشل لا نافذ کرنے والے صدر یون سک یول نے مستعفی ہونے سے انکار کے ساتھ اپنے عوام سے معافی مانگ لی۔

یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن پر ریاست مخالف سرگرمیوں کا الزام، جنوبی کوریا کے صدر نے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا

صدر یون سک یول کا قوم سے خطاب میں کہنا تھا کہ مارشل لا کے نفاذ پر معذرت خواہ ہوں، ایسی کوئی دوسری کوشش نہیں کی جائے گی۔

جنوبی کوریائی صدر کے مطابق مارشل لا کے فیصلے کی قانونی اور سیاسی ذمے داری سے بچنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جنوبی کوریا: مارشل لا کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے، پارلیمنٹ سے بھی مخالفت میں قرارداد منظور

واضح رہے کہ آج جنوبی کوریا میں آج صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک پر ووٹنگ ہو گی۔ حکمراں جماعت نے مواخذے کی تحریک کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں جنوبی کوریا کے صدر نے اپوزیشن کی سرگرمیوں کو ریاست مخالف قرار دیتے ہوئے ملک میں مارشل نافذ کر دیا تھا، تاہم ان کے اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور اسمبلی میں مواخذے کی تحریک کے بعد انہوں نے اپنے اس اقدام پر معافی مانگ لی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 23 مزدور ہلاک، متعدد زخمی

دنیش ترویدی بنگلہ دیش میں نئے بھارتی ہائی کمشنر ہوں گے؟

بلغاریہ میں روس نواز سابق صدر رومین رادیف عام انتخابات میں بڑی کامیابی کے قریب

متحدہ عرب امارات کی تاریخ میں پہلی بار 5 کرکٹرز کو شہریت مل گئی، قومی ٹیم میں شامل

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟

ویڈیو

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟