کیا روس شام میں اپنے فوجی اڈوں کو چھوڑ رہا ہے؟

بدھ 11 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شام میں قائم طرطوس کا بحری اڈا اور ’حمی میم‘ کا ہوائی اڈا، سابق سوویت یونین سے باہر روس کے واحد فوجی مراکز ہیں جو افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں روس کی سرگرمیوں میں کلیدی کردار کرتے رہے ہیں۔

شام میں باغیوں کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ملک میں قائم روس کے فوجی اڈوں سے متعلق مختلف خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ اس حوالے سے روسی سرکاری میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شامی باغی گروپ نے ملک میں موجود روس کی فوجی تنصیبات کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بشارالاسد اور ان کے خاندان کو پناہ دے دی

 تاہم، اب اطلاعات ہیں کہ روس کے بحری جنگی جہاز شامی بندرگاہ طرطوس سے نکل گئے ہیں۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طرطوس بندرگاہ پر روسی فریگیٹ اور تیل بردار جہازوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے 9 دسمبر کو نقل و حرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کے مطابق، روسی جہازوں کو طرطوس سے شمال مغرب میں 13 کلومیٹر کے فاصلے پر نقل و حرکت کرتے دیکھا گیا ہے۔ روسی وزات دفاع نے اب تک اس حوالے سے کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5 دہائیوں تک شام پر حکومت کرنے والے الاسد خاندان کے عروج و زوال پر ایک نظر

واضح رہے کہ شام نے 1971 میں ایک معاہدے کے تحت طرطوس بندرگاہ سوویت یونین کو لیز پر دی تھی۔ یہ فوجی بحری مرکز 1977 میں مکمل طور پر فعال ہو گیا تھا۔ یہ سرد جنگ کا زمانہ تھا جس دوران عرب ریاستوں نے سوویت یونین کے ساتھ بھرپور تعاون کیا تھا۔

طرطوس گہرے پانیوں کی ایک بندرگاہ ہے جس سے روس کو اپنی جوہری آبدوزیں اس علاقے میں رکھنے کی سہولت حاصل ہے۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد اس کے بیرون ملک قائم بہت سے فوجی اڈے بند کر دیے گئے تھے، لیکن طرطوس کو برقرار رکھا گیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟