سلاجیت، جس کی خاطر وکیل نے وکالت چھوڑ دی

جمعرات 26 دسمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کے بعض پہاڑوں کی چٹانوں سے نکلنے والا  ایک قدرتی مادہ سلاجیت ہزاروں سال سے اپنی طبی خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کا رنگ سیاہ یا بھورے رنگ کا ہوتا ہے۔ یہ صدیوں کے حیاتیاتی اور معدنیاتی عمل کا نتیجہ ہے۔

سلاجیت کو مقامی زبان میں ’شلاجیت‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عموماً ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جاتا ہے۔

سلاجیت کو توانائی بڑھانے، جسمانی قوت میں اضافے اور مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں فولاد، زنک اور دیگر معدنیات کے ساتھ فولک ایسڈ اور ہومک ایسڈ جیسے مرکبات شامل ہوتے ہیں، جو جسم کے لیے انتہائی مفید ہیں۔ اسے جوڑوں کے درد، اور عمومی کمزوری کے علاج کے لیے قدرتی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے سلاجیت نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ مقامی لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ سلاجیت کی عالمی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی طلب نے اسے علاقے کی معیشت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔

سلاجیت گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے وافر مقدار میں ملتی ہے اور کئی لوگ اس کاروبار سے بھی وابستہ ہیں۔

یہ کہانی ہے ایک وکیل یاسین اعظم کی جس نے اپنی وکالت کے شعبہ کو خیرباد کہا اور اس سلاجیت کا کاروبار شروع کیا۔ یاسین اعظم گلگت بلتستان کے ان نوجوانوں کیلیے ایک رول ماڈل ہے جو نوکری کیلیے در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار