جو بائیڈن خفیہ تنظیم ’فری میسنری‘ میں شامل ہوگئے، یہ پُراسرار تنظیم کیا ہے؟

اتوار 26 جنوری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حال ہی میں سبکدوش ہونے والے امریکی صدر جوبائیڈن نے سازشی نظریات اور پراسراریت میں لپٹی خفیہ تنظیم ’فری میسنری‘ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

انہوں نے فری میسنری میں داخلہ صدارت کا عہدہ چھوڑنے سے ایک دن قبل لیا۔ جوبائیڈن نے خود اس تنظیم کا حصہ بننے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے البتہ مذکورہ تنظیم نے ان کی شمولیت کی تصدیق کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انہیں تنظیم کے امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں موجود ایک مرکز میں ممبرشپ دیا گیا۔

جوبائیڈن کے اس فیصلے کی کیتھولک چرچ کی جانب سے مخالفت ہوسکتی ہے کیوں کہ یہ چرچ ماضی میں کیتھولک عیسائیوں کو فری میسنری میں شامل ہونے پر فرقے سے نکالتا آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:جوبائیڈن کی پوتی عربی نوجوان کے عشق میں مبتلا

فری میسنری تنظیم کیا ہے؟

فری میسنری دنیا کی سب سے بڑی خفیہ تنظیم ہے جس میں تاریخی طور پر فلسفی، سیاسی اور کاروباری اشرافیہ، مذہبی طور پر غیر مقبول خیالات کے حامل لوگ اور یہاں تک کے جادوگر وغیرہ بھی شامل ہوتے تھے۔

اس ’کلٹ‘ کے ممبران اپنے کچھ عقائد، علامتوں اور پریکٹیسز کو دوسرے لوگوں سے خفیہ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے یہ تنظیم طویل عرصے سے سازشی نظریات اور پراسراریت کا شکار رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فری میسنری پوری دنیا پر قابو کرکے اپنے عقائد مسلط کرنا چاہتی ہے اس لیے اس میں رازداری کا عنصر نمایاں ہے۔

یہ بھی پڑھیے:امریکی سیاست اور مذہبی ٹچ

تاہم ان سازشی نظریات سے ہٹ کر فری میسنری اپنے آپ کو ایک رفاہی تنظیم مانتی ہے اور اس کے مطابق فری میسن ممبر ذاتی پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بہبود کے لیے ذمہ داریاں نبھانے کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے اس تنظیم کے ممبران سماجی کاموں کے لیے بڑے پیمانے پر عطیات بھی دیتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اس وقت فری میسن ممبران کی تعداد 2 سے 6 ملین کے درمیان ہے اور جوبائیڈن فری میسنری کا ممبر بننے والے واحد امریکی صدر نہیں بلکہ متعدد دوسرے سابقہ صدور بھی اس تنظیم کا حصہ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟