ماہرہ خان کے برانڈ کی چاہ میں صارفین عید کے ملبوسات سے محروم

جمعہ 21 اپریل 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کی صف اول کی ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان نے حال ہی میں MbyMahira کے نام سے کپڑوں کا ایک برانڈ لانچ کیا ہے۔

اس برانڈ میں خوبصورت سادہ سفید اور سیاہ کرتے، پتلون، ساڑیاں، کفتان اور دوپٹہ شامل ہیں۔ ماہرہ خان نے اپنے برانڈ کے لباس کے لیے ماڈلنگ بھی کی۔

MbyMahira  کی کلیکشن کو صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا نتیجتاً بڑی تعداد میں آرڈرز موصول ہوئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق صارفین خاص طور خواتین ماہرہ خان کے برانڈ کو لیکر خاصی پُر جوش تھیں، مگر ان کے ارمانوں پر اُس وقت اوس پڑ گئی جب MbyMahira کی جانب سے ایک پوسٹ کے ذریعہ اپنے کرما فرماؤں کو آگاہ کیا گیا کہ ’ بے مثال پروڈکشن میں تاخیر کی وجہ سے، آرڈرز عید کے بعد ڈیلیور کیے جائیں گے ‘۔

یہ پوسٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صارفین کی جانب سے عید سر پر آجانے کے باوجود ان کے آرڈرز موصول نہ ہونے کی شکایات کی جا رہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ بہت سی خواتین عید کے دن یہ لباس پہننا چاہتی تھیں لیکن اب وہ یقیناً کوئی دوسرا آپشن اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان حکومت کے اندر ’موقع پرست عناصر‘ موجود ہیں، نائب سربراہ انٹیلیجنس کا اعتراف

نئے صوبوں کا معاملہ محض شور شرابہ، پی ٹی آئی کو سیاسی مذاکرات کے لیے پہلے جمہوری رویہ اپنانا ہو گا، رانا ثنا اللہ

سپریم کورٹ کے 2 اہم فیصلے: خلع کا حق آئینی قرار، جعلی نکاح نامے سے جائیداد ہتھیانے کی کوشش ناکام

آزاد کشمیر میں عوام نے دنگا فساد کو مسترد کر کے ترقی کو چنا، اصل امتحان اب شروع ہوا ہے، مریم نواز

شام غم کی سحر نہیں ہوتی!

ویڈیو

آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال تشویشناک ہے، ماضی کی حکومتوں نے ذمہ داری نہیں نبھائی، نواز شریف

آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ برقرار، عوام مہنگے پیٹرول کے لیے تیار ہوجائیں، صدر ٹرمپ کا امریکیوں کو پیغام

ایٹمی پلانٹ بچانے کی انوکھی تدبیر، ہنگری کا ندی میں 2 بڑے بحری جہاز ڈبونے کا فیصلہ

کالم / تجزیہ

چربیلی آگ پر چل کر سچائی ثابت کرنا

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی