رمضان المبارک: لوگ بلوچستان کی کھجور زیادہ کیوں کھاتے ہیں؟

جمعہ 28 فروری 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ کے بازار مختلف اقسام کی کھجور سے سج گئے ہیں۔ ان دکانوں پر یوں اندورن ملک اور بیرون ملک سے مختلف اقسام کی کھجوریں لائی جاتی ہیں لیکن بلوچستان کے مکران ڈویژن کی کجھور رمضان المبارک میں شہریوں کی اولین ترجیح ہے۔

کجھور فروخت کرنے والے تاجروں کے مطابق اس وقت مارکیٹوں میں ایران اور سعودی عرب کی کجھوریں موجود ہیں لیکن پنجگور کی کھجور کا ذائقہ اعلی اور منفرد ہوتا ہے۔

 اس وقت مارکیٹ میں مضافاتی، قلمی اور پنجگوری سمیت 165 اقسام کی بلوچستان کی مقامی کجھوریں موجود ہیں لیکن یہاں بسنے والے لوگ مضافاتی کجھور کو سب سے زیادہ پسند کرتے ہیں۔

دکانداروں کا بتانا ہے کہ ایران اور سعودیہ کی کجھور 800 سے ہزار روپے فی کلو میں مل رہی ہے جبکہ بلوچستان کی مقامی کجھور 300 سے 600 روپے فی کلو میں بآسانی دستیاب ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے رمضان المبارک میں جہاں کجھور کھانا سنت نبوی ہے وہی یہ غذائیت میں بھرپور ہوتی ہے جو دن بھر کی انرجی بحال کردیتی ہے۔

جہاں تک بات ہے بلوچستان کی مقامی کجھور کی تو یہ کجھور دیکھنے میں چھوٹی ہے لیکن بہت لذیز ہے تب ہی تمام لوگ یہاں کی کجھور کو پسند کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور چرس برآمدگی کیس: مجرم کی 11 سالہ سزا مکمل، عمر قید کے مساوی قرار

17 سال تک ایئر کینیڈا کی سینکڑوں پروازیں اڑانے والے پائلٹ کا لائسنس جعلی نکلا

صحافی اغوا کیس: امریکی عدالت نے اہم طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنادی

پاسپورٹ سروس میں بڑی سہولت، ڈور اسٹیپ ڈیلیوری شروع کرنے کا فیصلہ

ہائیڈرو کاربن یا ایرانی پیٹرول؟ عدالت کا آئل ٹینکرز کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم

ویڈیو

بجٹ 27-2026، کم از کم تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟ اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان کا اگلا وزیراعظم بلاول بھٹو ہوگا اور اپنی ماں اور نانا کی طرح ملک کی خدمت کرے گا، سینیٹر پیپلزپارٹی شہادت اعوان

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالم / تجزیہ

’سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن ہے‘

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟