’دی ڈرٹی پکچر‘ کے بعدبینکوں نے مجھے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر مسترد کر دیا تھا، ودیا بالن کا انکشاف

جمعرات 6 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

5 مارچ کو ممبئی میں فیڈرل بینک نے ایک ایونٹ کا انعقاد کیا، جس میں ان کے نئے برانڈ ایمبیسیڈر کا اعلان کیا گیا۔ اس برانڈ ایمبیسیڈر کا نام ایونٹ جاری ہونے تک خفیہ رکھا گیا تھا اور صرف ایونٹ میں ہی میڈیا کو یہ معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور نہیں بلکہ مشہور بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن ہیں۔

ودیا بالن نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بینک کی پہلی برانڈ ایمبیسیڈر بن کر بہت خوش ہیں۔ ودیا بالن نے بتایا کہ پہلے ان کے والد ان کے مالی معاملات دیکھتے تھے پھر جب ان کی شادی ہونے والی تھی تو انہوں نے کہا کہ ’اب شوہر کو اپنے مالی معاملات سنبھالنے دو‘۔ جس پر اداکارہ نے کہا کہ ’میں کہاں ہوں، کیا آپ مجھ پر اعتماد نہیں کرتے کہ میں اپنے پیسوں کو خود سنبھالوں‘۔

یہ بھی پڑھیں: نامور بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن اب بھی کرائے کے مکان میں کیوں رہتی ہیں؟

اداکارہ نے بتایا کہ ان کے شوہر سدھارتھ رائے کپور اور ان کے والد ہمیشہ انہیں مشورہ دینے کے لیے موجود ہیں لیکن وہ چاہتی تھیں کہ خود اپنے پیسوں کی ذمہ داری لیں۔ جس پر انہیں کہا گیا کہ ’تمہیں کچھ نہیں آتا تم نے کبھی اس میں دلچسپی نہیں دکھائی‘۔ ودیا بالن نے کہا کہ انہوں نے جواباً کہا کہ میں اب اس پر کام کروں گی اور انہوں نے اسے سمجھنا شروع کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا، ’جب میں نے اپنے مالی معاملات میں خود کو ذمہ دار بنایا، تو میرا پیسہ بڑھنے لگا‘۔ ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں سرمایہ کاری کرتی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’میں مختلف سرمایہ کاری کی چیزوں میں پیسہ لگاتی ہوں۔ لیکن مجھے فخر ہے کہ آج میں ان موضوعات پر بات کر سکتی ہوں۔ شادی سے 12 سال پہلے، جب میرے والد نے کہا تھا کہ میں مالی معاملات میں دلچسپی نہیں رکھتی، تو میں نے خود کو بدل لیا۔ آج میں جانتی ہوں کہ کہاں سرمایہ کاری کر رہی ہوں اور اپنے فیصلے خود کرتی ہوں۔ سدھارتھ اور میرے والد مجھے مشورہ دیتے ہیں، مگر آخری فیصلہ میرا اپنا ہوتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: سگریٹ پیتی نہیں، پینا اچھا لگتا ہے، ودیا بالن کا انکشاف

ودیا بالن نے یہ بھی بتایا، ’جب 2011 میں میری فلم ’دی ڈرٹی پکچر‘ ریلیز ہوئی تھی، تو مجھے کئی برانڈز کی جانب سے مواقع ملے، سوائے کار اور بینکنگ کے۔ اس لیے میں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں کسی بینک کی برانڈ ایمبیسیڈر بنوں۔ یہ بہت عجیب تھا کہ کسی بینک نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا۔ میری ٹیم نے کچھ بینکوں سے بات کی، مگر ہر بینک نے یہی کہا، ہمیں خاتون برانڈ ایمبیسیڈر نہیں چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ مالی فیصلے خواتین نہیں کرتی ہیں۔ اس لیے مجھے فخر ہے کہ آج میں فیڈرل بینک کی برانڈ ایمبیسیڈر ہوں، کیونکہ یہ سوچ اب بدل رہی ہے‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں