جنوبی وزیرستان میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ

اتوار 16 مارچ 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے علاقے جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے باعث جزوی طور پر کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی سی کُرم پرحملے میں ملوث 30 دہشتگردوں کے خلاف ایف آئی آر، پارا چنار میں کرفیو لگانے کا فیصلہ

ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے بینی زائی راغزائی سے جنڈولہ تک کل صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا، اس کے علاوہ تنائی سروکئی، جنڈولہ سڑک پر بھی کرفیو نافذ ہوگی۔

نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا کہ وانا زالئی کیمپ سے کیڈیٹ کالج روڈ بند رہے گا، کرفیو 17 مارچ 2025 کو صبح 6 سے شام 6 بجے تک کرفیو نافذ ہوگا، کوڑ قلعہ، منزئی، خرگئی، احمد وام اور جنڈولہ کے راستے بند رہے گے، ان راستوں پر ہر قسم کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا جنوبی وزیرستان میں آپریشن، 30 دہشتگرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے باعث راستوں پر کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ضلع جنوبی وزیر ستان اپر، ضلع جنوبی وزیر ستان لوئر اور ٹانک کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے کرفیو کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی، بین الصوبائی ڈکیت گینگ کے 4 ارکان گرفتار

گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ قابل مذمت، پاکستان کا عالمی برادری سے ایکشن کا مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی دہشتگردی اور جارحیت کی ساری کہانی بیان کردی

پنجاب بھر میں ایئر بیسز سمیت تمام ہوائی اڈوں کے گردونواح میں دفعہ 144 کا نفاذ

راکھی ساونت ویسی نہیں جیسی میڈیا دکھاتا ہے، دودی خان کا حیران کن انکشاف

ویڈیو

پشاور کی مویشی منڈی: جانور اور قیمتیں زیادہ، خریدار پریشان

مسئلہ کشمیر مہاجرین کی وجہ سے زندہ، پیپلز پارٹی اور ایکشن کمیٹی الیکشن ملتوی کرانے کے لیے ایک پیج پر ہیں، احمد رضا قادری

28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟