اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت کے الزامات کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشتگردی، مقبوضہ علاقوں میں جبر، علاقائی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے۔
پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود خطے میں عدم استحکام اور دہشتگردی کی سرپرستی میں ملوث ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ہریش پروتھانی نے مباحثے کے دوران پاکستان پر بین الاقوامی انسانی قوانین نظر انداز کرنے، شہریوں کو نشانہ بنانے اور مبینہ ’نسل کشی جیسے اقدامات‘ کا الزام عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیے ’ سرحد پار تشدد اور اقلیتوں پر مظالم بے نقاب ‘، اقوام متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
بھارتی مندوب نے افغانستان میں طالبان حکومت کے اس دعوے کو بھی دہرایا جس میں رواں سال کابل کے ایک اسپتال کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ بھارت کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان نے اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے عوام کی صورتحال کو سلامتی کونسل میں اجاگر کیا تھا۔
بھارتی الزامات کے جواب میں پاکستان کی نمائندہ صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر خود کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دنیا اب اس نقاب کے پیچھے چھپا چہرہ دیکھ چکی ہے۔
Right of Reply by Counsellor, Ms. Saima Saleem
In Response to Remarks by India during the Security Council Annual Debate on the Protection of Civilians
(20 May 2026)
****Mr. President,
Today, India once again came to this Council wearing the mask of a victim — but the world… pic.twitter.com/KAICgoYeUl
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 21, 2026
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی ریاست کا چہرہ ہے جو بیرون ملک دہشتگردی برآمد کرتی ہے، طاقت کے ذریعے لوگوں پر قبضہ جماتی ہے، اپنے ملک میں اقلیتوں کو نشانہ بناتی ہے، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے اور خطے میں جارحیت کو فروغ دیتی ہے، پھر دوسروں کو شہریوں کے تحفظ کا درس دینے کی کوشش کرتی ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی مبینہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی محض الزامات نہیں بلکہ اس کی انسانی قیمت بھی ادا کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جیسے گروہوں نے پاکستان میں ہزاروں شہریوں، خواتین اور بچوں کو مساجد، بازاروں، اسکولوں اور سڑکوں پر نشانہ بنایا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان گروہوں کے نیٹ ورکس افغان سرزمین سے مالی معاونت، سہولت کاری اور آپریشنل مدد حاصل کرتے رہے ہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں، تربیتی مراکز، اسلحہ گوداموں اور معاون نیٹ ورکس کے خلاف انسداد دہشتگردی کے لیے ’محدود، منظم اور پیشہ ورانہ کارروائیاں‘ کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں صرف دہشتگردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کے خلاف تھیں، نہ کہ افغانستان کے عوام یا شہری تنصیبات کے خلاف۔ انہوں نے طالبان حکومت اور بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف ’گمراہ کن پروپیگنڈا‘ کر رہے ہیں تاکہ پاکستان میں معصوم شہریوں کے خلاف ہونے والے جرائم پر پردہ ڈالا جاسکے۔
صائمہ سلیم نے مزید کہا کہ بھارت کو اس بات پر مایوسی ہورہی ہے کہ افغان دہشتگرد نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان کے خلاف اس کی سرمایہ کاری، پاکستان کی مؤثر انسداد دہشتگردی کارروائیوں کے باعث ناکام ہورہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نہ تو کشمیر پر اپنے قبضے کو چھپا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انکار کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو قتل، گرفتار اور ان کے حقوق سے محروم کیا جارہا ہے جبکہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دی جاچکی ہے، نفرت انگیز تقاریر کو سیاسی سرپرستی حاصل ہے، ہجومی تشدد پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک معمول بنتا جارہا ہے۔
انہوں نے دریائے سندھ کے پانی سے متعلق معاہدے کو معطل رکھنے کے بھارتی فیصلے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی قوانین سے بھارت کی بے اعتنائی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی صائمہ سلیم کون ہیں؟
صائمہ سلیم نے کہا ’جو ریاست لاکھوں پاکستانیوں کے پانی، خوراک اور روزگار کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکیاں دے، وہ شہریوں کے تحفظ کی بات نہیں کرسکتی۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن، مذاکرات، تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے، جبکہ بھارت دہشتگردی، قبضے، جارحیت، جبر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باعث بے نقاب ہوچکا ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنے والا ملک ہے، جو اپنے تمام ہمسایہ ممالک اور دنیا بھر کے ساتھ باہمی احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔













