کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا، جو کل سنایاجائےگا۔
عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو کل ذاتی طور پر طلب کرلیا، جبکہ اجازت کے بغیر ملزم کو دوسرے مقدمےمیں گرفتار کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں صحافی فرحان ملک کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
ملزم کے وکیل معیزجعفری نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ بدنیتی پرمبنی ہے، ایف آئی اے اب تک یہ نہیں بتا سکی کہ جرم کیا ہے، صرف یہ کہہ دینا کہ اینٹی اسٹیٹ مواد ہے کافی نہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ تو بتایا جائے کہ کون سی رپورٹ یا خبر اینٹی اسٹیٹ ہے، ویب سائٹ پر ہر چیز موجود ہے، پھر جسمانی ریمانڈ کیوں لیا گیا ہے، ملزم کو عدالتی حکم پر جیل منتقل کرنے کے بجائے دوسری عدالت سے ریمانڈ لے لیا گیا۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیاکہ جیل کسٹڈی کے بعد ملزم کو کہاں لے کر جانا تھا، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ دوسرے مقدمے کے لیےعدالت میں تھا تو پتا چلا کہ ملزم کو کسی اور کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ تو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے استفسار کیاکہ کس کے حکم پر ملزم کو جیل کے بجائے دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا؟ جیل بھیجنے کے بجائے کس کے حکم پر ملزم کو دوسرے کیس میں گرفتار کیا گیا؟ نام بتائیں کہ کس کے کہنے پر ملزم کو جیل نہ بھیجنےکی حرکت کی گئی۔
تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ مجھے دفتر سے فون آیا تھا، عدالت نے کہا کس کا فون تھا، نام بتاو؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا منشی کا فون آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں صحافی فرحان ملک 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
عدالت نے حکم دیا کہ بلائیں ان افسران کو جنہوں نےعدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے۔














