تاجرتنظیموں نے پیر کے روز اسٹیٹ بینک کی جانب سے کلیدی پالیسی شرح میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے 11.5 فیصد تک بڑھانے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی اور ملک میں صنعتی یونٹس اور فیکٹریوں کی بندش کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کارمس ایںڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ غیر موزوں وقت پر اور افسوسناک ہے کیونکہ استحکام کے مرحلے کے بعد ملکی معیشت ترقی کی جانب بڑھ رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: شرح سود میں اضافہ، اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا
ایف پی سی سی آئی کے سربراہ نے نشاندہی کی کہ بلند شرحِ سود کا ماحول حکومت کے معاشی بحالی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اہداف سے بنیادی طور پر متصادم ہے۔
عاطف اکرام شیخ کے مطابق، اس پیش رفت سے پاکستانی مصنوعات علاقائی اور عالمی منڈیوں میں غیر مسابقتی صورتحال سے دوچار ہوجائیں گی۔
ایف پی سی سی آئی کے سینیئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اس فیصلے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر غیر متناسب اثرات مرتب ہوں گے۔
مزید پڑھیں: شرح سود میں کمی نہ کرنے کی وجہ مستقبل کے خدشات ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد
ان کا مؤقف ہے کہ آج کا فیصلہ دراصل درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے سستی مالی سہولیات تک رسائی کے دروازے بند کر دے گا۔
جب آپ پیداوار کے بنیادی ذرائع کو ہی محدود کر رہے ہوں تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے بلند محصولات کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔‘
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ریحان حنیف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کی گنجائش موجود تھی، مگر اس کے برعکس اضافہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: وفاقی وزیرخزانہ کا معاشی اشاریوں میں بہتری، شرح سود اور بجلی کے نرخ میں مزید کمی کا عندیہ
انہوں نے اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ اور منفی اثرات کا حامل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے پہلے ہی مشکل معاشی حالات میں کام کرنے والے کاروباروں کے لیے قرض لینے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق، شرح سود میں اضافے سے کاروبار کرنے کی لاگت بڑھے گی، جس سے پاکستانی کمپنیوں کی مسابقت متاثر ہوگی اور سرمایہ کاری و توسیع کی حوصلہ شکنی ہوگی۔














