چین نے چاند کی چٹانیں پاکستان سمیت کن 6 ممالک کے سائنسدانوں کو دیں؟

بدھ 30 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین نے 2020 میں اپنی بغیر انسان کے بھیجی گئی چانگ ای-5 (Chang’e-5) مشن کے ذریعے حاصل کی گئی چاند کی چٹانیں پاکستان سمیت 6 ممالک کو سائنسی مطالعے کے لیے فراہم کر دی ہیں۔

چینی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) کے نائب سربراہ شان ژونگ دے نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ چاند کی یہ چٹانیں پوری انسانیت کا مشترکہ خزانہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا نے ان چٹانوں کا مطالعہ کرنے کی اجازت حاصل کرلی ہے، لیکن خود چین کے ساتھ خلائی تعاون پر اب بھی پابندیاں قائم ہیں، کیونکہ امریکی کانگریس نے ناسا کو چین کے ساتھ اشتراک سے روک رکھا ہے۔

چینی خلائی ایجنسی نے ان تعلیمی اداروں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں چاند کی چٹانوں کا مطالعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں امریکا کی براؤن یونیورسٹی اور اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک ایٹ اسٹونی بروک شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: آئندہ جمعہ کی صبح آسمان پر چاند، زہرہ، زحل اور عطارد کی ملاقات

دیگر اداروں میں جاپان کی اوساکا یونیورسٹی، فرانس کا پیرس انسٹیٹیوٹ آف پلانیٹری فزکس، جرمنی کی یونیورسٹی آف کولون، برطانیہ کی اوپن یونیورسٹی اور پاکستان کی خلائی تحقیقی تنظیم سپارکو(Space and Upper Atmosphere Research Commission) شامل ہیں۔

شان ژونگ دے نے مزید کہا کہ ہم دنیا بھر کے سائنسدانوں کی جانب سے مزید سائنسی دریافتوں کے منتظر ہیں تاکہ انسانیت کے علم میں اضافہ ہو اور سب کو فائدہ پہنچے۔

واضح رہے کہ 2020 میں چانگ ای-5 مشن کے ذریعے چاند کی سطح سے نمونے اکٹھے کر کے زمین پر لائے گئے تھے، اور اس طرح چین، امریکا اور سابق سوویت یونین کے بعد تیسرا ملک بن گیا جس نے چاند کی مٹی اور چٹانیں زمین پر لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

امریکی اسپیس پالیسی انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر جان لوگزڈن کے مطابق، چین کے حاصل کردہ چٹانیں امریکا کے اپالو مشنز سے حاصل شدہ نمونوں کے مقابلے میں قریباً ایک ارب سال زیادہ نئی اور جوان معلوم ہوتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے افق پر ’گلابی چاند‘ بآسانی کب دیکھا جاسکے گا؟

یاد رہے کہ گزشتہ سال چین کے چانگ ای-6 مشن نے چاند کے جنوبی قطب سے مزید قدیم چٹانیں جمع کر کے زمین پر منتقل کیں، جن کا مقصد چاند کی سب سے پرانی سطح کا مطالعہ کرنا تھا۔

چین کی نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے 6 ممالک کے 7 تحقیقی اداروں کو یہ قیمتی نمونے فراہم کیے ہیں:

پاکستان: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)
امریکا: براؤن یونیورسٹی اور سنی اسٹونی بروک یونیورسٹی
برطانیہ: دی اوپن یونیورسٹی
فرانس: انسٹی ٹیوٹ ڈی فزیک ڈو گلوب ڈی پیرس
جرمنی: یونیورسٹی آف کولون
جاپان: یونیورسٹی آف اوساکا

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا