اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر دستخط کر دیے

جمعہ 30 مئی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی سے متعلق امریکا کی نئی تجویز پر باضابطہ طور پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ انہیں یہ مجوزہ معاہدہ موصول ہوچکا ہے اور اس کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ اسرائیل نے غزہ کے لیے پیش کی گئی نئی جنگ بندی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ یہ تجویز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی جانب سے تیار کی گئی تھی، اور اسرائیل کی منظوری کے بعد ہی حماس کو ارسال کی گئی۔

ترجمان کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور امریکی انتظامیہ پرامید ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت نہ صرف لڑائی رُکے گی بلکہ تمام یرغمالیوں کی واپسی بھی ممکن ہو سکے گی۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا نیا مکروہ منصوبہ: فلسطینی علاقے میں 22 نئی یہودی بستیاں بنانے کا اعلان

ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی مغویوں کے اہلخانہ سے ملاقات میں تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت نے امریکی تجویز کو قبول کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا کہ یہ اقدام مغویوں کی بازیابی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

عرب میڈیا اور حماس کے ذرائع کے مطابق اسٹیو وٹکوف کی پیش کردہ اس تجویز میں 60 روزہ جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہے۔ مسودے کے تحت پہلے مرحلے میں حماس اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں واپس کرے گی، جبکہ اسرائیل فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ 10 قیدیوں کی رہائی ایک ہفتے کے اندر مکمل کی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی امریکا کی جانب سے ایک جنگ بندی تجویز پیش کی گئی تھی جسے حماس نے قبول کیا تھا، تاہم اسرائیلی حکام نے اسے رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ وہ تجویز امریکی تھی، اسرائیلی نہیں۔

مزید پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزیاں اور اسکول تباہ کرنے پر پاکستان کی شدید مذمت

واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 سے جاری حملوں میں اب تک 54 ہزار 249 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

معاہدے کی پیشرفت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ شاید مہینوں سے جاری خونریزی رک سکے اور انسانی بحران میں کمی آ سکے، تاہم حتمی جنگ بندی کا انحصار اب حماس کے ردعمل پر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ: جڑانوالہ چرچ حملہ اور توہین مذہب کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

سپریم کورٹ: پرویز الہیٰ، راسخ الہیٰ اور محمد خان بھٹی کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

ایران کے حملوں میں 150 کے قریب امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کا انکشاف

ٹی20 ورلڈ کپ فائنل میں دھونی اور روہت موجود، مگر ویرات کوہلی کیوں غائب رہے؟

نئی موٹرویز کم از کم 6 لین بنانے کا فیصلہ، این ایچ اے

ویڈیو

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی بائیکوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے