لشکری خان رئیسانی نے صوبائی مائنز اینڈ منرل ایکٹ بلوچستان ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

پیر 7 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ کیخلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی ہے جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اس ضمن میں کل عدالت سے رجوع کریں گے۔

نوابزادہ لشکری رئیسانی نے ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو مفاد عامہ کے خلاف ہے، جبکہ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب بلیدی کا کہنا تھا کہ سربراہ نیشنل پارٹی کل ہائیکورٹ میں آکر پٹیشن  دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے خلاف جے یو آئی کی ہائیکورٹ میں آئینی درخواست، قانون کو عوام دشمن قرار دیدیا

مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو پاس کرکے بلوچستان کے ساتھ ایک سازش کی گئی ہے  آج کی پٹیشن بلوچستان ہائیکورٹ اور ججز کے لئے بھی ایک چیلنج ہے  اس ایکٹ کے تحت آج بلوچستان کے مختلف اضلاع کی زمینوں کو الاٹ کیا گیا۔

اس موقع پر مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو چیلنج کرنے والے فریق حاحی لشکری رئیسانی کا کہنا تھا کہ آج ہم نے مائنز اینڈ منرل ایکٹ  2025 کےحوالے سے ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی مائنز اینڈ منرل ایکٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری: فضل الرحمان نے اراکین بلوچستان اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کردیے

’اسے ڈمی حکومت نے بنایا ہے بلوچستان کے عوام اور ہم اس ایکٹ کو مسترد کرتے ہیں ہماری آئندہ نسلوں کا سودا ہوا ہے چند سالوں کے لیے، ہم اسے نہیں مانتے اسی کالے قانون کے تحت 17 نئے الاٹمنٹس کئے گئے اور غیرمقامی لوگوں کو لاکھوں ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان مائنز اینڈ منرل ایکٹ ڈاکہ زنی کا قانون ہے، انہوں نے تمام سماجی کارکنوں، مقامی افراد اور سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ اس ایکٹ کے خلاف آواز بلند کریں بلوچستان صوبائی اسمبلی اخلاقی طور پر یہ حیثیت نہیں رکھتی کہ ایسا قانون بنائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp