اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، خطے میں کشیدگی پر اظہارِ تشویش

منگل 15 جولائی 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی امن و امان اور حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا گیا، جب کہ حالیہ دنوں اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی حکومت اور عوام سے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ چیلنجز کے پیش نظر باہمی مشاورت اور تعاون کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے، تاکہ خطے کو پائیدار امن کی جانب گامزن کیا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر

ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

خاتون کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم کا قاتل گرفتار کرلیا گیا

آئی فون کو ٹکر دینے کی تیاری، سام سنگ گلیکسی ایس 27 میں زبردست فیچر متعارف

کل 6 جولائی سے ملک بھر میں موسلا دھار بارشیں، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا

ویڈیو

پاکستان اور ترکیہ معاشی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

’بھارت نے پانی روکا تو پاکستان بھارت کی لائف لائن بند کر دے گا‘

’مریم کی دستک‘ ایپ کیا ہے اور اس کے ساتھ کتنے ادارے منسلک ہیں؟

کالم / تجزیہ

ریڈیو کا روشن باب: بھائی لال اور اوم پرکاش

بریسٹ کینسر: خوف نہیں، آگاہی کی ضرورت

بھارتی آبی دہشتگردی کا پاکستان کیسے جواب دے؟