امریکی نیشنل آرکائیوز نے 1968 میں معروف سیاہ فام رہنما ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے قتل سے متعلق ہزاروں نئی ڈیجیٹل دستاویزات جاری کر دی ہیں۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے آغاز میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کیا گیا، جس میں کنگ، سابق صدر جان ایف کینیڈی اور رابرٹ کینیڈی کے قتل سے متعلق تمام ریکارڈز کو منظرِ عام پر لانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
پیر کے روز جاری کی گئی ان دستاویزات میں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد فائلز شامل ہیں جو ڈاکٹر کنگ کے قتل اور اس کے مجرم قرار دیے گئے شخص جیمز ارل رے سے متعلق معلومات پر مشتمل ہیں۔
امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس کے مطابق، دستاویزات ایف بی آئی کی تحقیقات، ممکنہ سراغ، داخلی میمو، اور جیمز ارل رے کے ایک سابق قیدی ساتھی کے بیانات پر مبنی ہیں، جس نے مبینہ طور پر رے کے ساتھ قتل کی سازش پر گفتگو کی تھی۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا جان ایف کینیڈی اور مارٹن لوتھر کنگ کے قتل سے متعلق خفیہ دستاویزات عام کرنے کا حکم
ڈاکٹر کنگ کے اہل خانہ نے اس اقدام پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان فائلوں کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے۔ مارٹن لوتھر کنگ III اور ڈاکٹر برنیس اے کنگ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارے والد کو ایف بی آئی کے سابق سربراہ جے ایڈگر ہوور کی قیادت میں ایک جارحانہ، گمراہ کن اور خلل ڈالنے والی مہم کا نشانہ بنایا گیا، جس میں نگرانی اور کردار کشی کے منظم ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔
کنگ خاندان نے واضح کیا کہ وہ شفافیت اور تاریخی احتساب کے حامی ہیں، لیکن ہمارے والد کی میراث پر حملے یا اسے غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرتے ہیں۔
اہل خانہ نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ جیمز ارل رے کو سازش کے تحت مجرم ٹھہرایا گیا، اور کہا کہ ہم ان نئی دستاویزات کا جائزہ لیں گے تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا ان میں کچھ ایسا ہے جو ہمارے پہلے سے تسلیم شدہ حقائق سے مختلف یا اضافی ہو۔
مزید پڑھیں: وہ تقریر جس کے بعد مارٹن لوتھر کنگ کو قتل کردیا گیا
امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی نے دستاویزات کی اشاعت پر کہا کہ امریکی عوام اس افسوسناک واقعے کے کئی دہائیوں بعد سچ جاننے کے حقدار ہیں، جو ہمارے ملک کے ایک عظیم رہنما کی جان لے گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان فائلوں کی اشاعت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ریپبلکن حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متنازع کاروباری شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ معلومات بھی عام کی جائیں۔ یاد رہے، رواں سال مارچ میں جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں دستاویزات بھی جاری کی گئی تھیں۔













