ایک شخص کا اپنی شادی کی انگوٹھی دریا میں کھونا بظاہر ناقابل واپسی لمحہ لگ رہا تھا لیکن مقامی اسکوبا ڈائیورز کی مہارت اور جذبے نے اسے ایک ناقابل فراموش کہانی میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روبوٹس کو کھا کر طاقت بڑھانے والا نیا روبوٹ، کہیں اس کا اگلا شکار انسان تو نہیں؟
اینٹ کرکر برطانیہ میں بیڈفورڈ کے دریا گریٹ اووز کے کنارے پیڈل بورڈنگ کر رہے تھے کہ اچانک اس وقت پریشان ہو گئے جب ان کی قیمتی شادی کی انگوٹھی پانی میں گر گئی۔ انہوں نے خود بھی ڈبکی لگا کر نیچے تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن پانی کی گہرائی اور مٹیالے پن نے تلاش کو ناممکن بنا دیا۔
اینٹ نے کہا کہ میں نے نیچے جانے کی کوشش کی لیکن 2 سے 3 میٹر نیچے جاتے ہی سانس کا دباؤ بڑھنے لگا اور کچھ نظر بھی نہیں آ رہا تھا، اس لیے واپس آنا پڑا۔
مزید پڑھیے: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
مایوسی کے عالم میں انہوں نے مقامی اسکوبا ڈائیونگ ٹیم بیڈفورڈ اسکوبا ڈائیورز سے رابطہ کیا جو ہفتہ کی صبح فوراً ان کی مدد کے لیے تیار ہو گئی۔ ٹیم نے مکمل تیاری کے ساتھ دریا میں تلاش شروع کی، اور صرف 10 منٹ بعد ڈائیور بیکس مارٹن نے پانی کی تہہ سے وہی انگوٹھی نکال لی۔
اس لمحے کی خوشی بیان کرتے ہوئے اینٹ کرکر نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ انگوٹھی واقعی مل گئی ہے۔ میں اتنا خوش ہوا کہ میں نے ان سب کو گیلی حالت میں ہی گلے لگا لیا۔
انہوں نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ بیکس، ٹونی اور ٹریسی کا دل سے شکریہ جنہوں نے میری شادی کی انگوٹھی واپس لا کر میری زندگی کا اہم ترین شے مجھے واپس دلوادی۔
مزید پڑھیں: دنیا میں ساحل سے محروم ملک کتنے، ایسے ترقی پذیر ممالک کے لیے اقوام متحدہ کیا کر رہی ہے؟
یہ واقعہ نہ صرف انسانی ہمدردی اور رضاکارانہ جذبے کی مثال ہے بلکہ یہ یاد دہانی بھی ہے کہ کچھ چیزیں خواہ وہ چھوٹی ہوں یا بڑی اور پانی کی گہرایوں میں ہی کیوں نہ جاچھپی ہوں اگر جذبہ تو انہیں واپس پایا جاسکتا ہے۔














