روس میں شمالی کوریائی مزدور غلامانہ حالات کے شکار کیوں؟

بدھ 13 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بی بی سی نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ روس میں کام کرنے والے شمالی کوریائی مزدور انتہائی سخت گیر اورغیرانسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں وہ طویل اوقاتِ کار، معمولی اجرت اور گندی رہائش گاہوں کا سامنا کررہے ہیں۔

یہ رپورٹ 6 فرار ہونے والے مزدوروں، محققین اور جنوبی کوریائی انٹیلیجنس ذرائع کی گواہی پر مبنی ہے، رپورٹ کے مطابق مزدوروں پر شمالی کوریا کے ریاستی سیکیورٹی اہلکار کڑی نگرانی رکھتے ہیں تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ روس میں مزید شمالی کوریائی کارکنوں کی آمد کے پیشِ نظر یہ نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روسی صدر کا شمالی کوریا کے رہنما کو کار کا تحفہ، اقوام متحدہ کو اعتراض کیوں؟

تخمینوں کے مطابق روس میں اس وقت تقریباً 15 ہزار شمالی کوریائی مزدور کام کر رہے ہیں، جن میں زیادہ تر تعمیراتی شعبے میں مصروف ہیں۔ یہ تعداد رواں سال کے اختتام تک 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، حالانکہ اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریائی مزدوروں کو ملازمت دینے پر پابندی عائد کر رکھی ہے کیونکہ ان کی اجرت براہِ راست شمالی کوریا کی حکومت کے پاس جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں روس جانے والے 13 ہزار شمالی کوریائیوں میں سے تقریباً 8 ہزار نے اس پابندی سے بچنے کے لیے اسٹوڈنٹ ویزے کا سہارا لیا۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کے ہزاروں فوجی روس کیوں بھیجے گئے؟

فرار ہونے والے مزدوروں نے بتایا کہ انہیں صبح 6 بجے سے لے کر اگلے دن صبح 2 بجے تک کام کرنے پرمجبورکیا جاتا تھا اورسال میں صرف 2 دن کی چھٹی دی جاتی تھی، ایک مزدور کے یہ واقعی ایسا تھا جیسے وہ مر رہے ہوں۔

اگرچہ انہیں شمالی کوریا کے مقابلے میں زیادہ اجرت کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر ’وفاداری فیس‘ کے نام پر کٹوتی کرلی جاتی اور بالآخر انہیں صرف 100 سے 200 ڈالر ماہانہ ملتے، وہ بھی وطن واپس پہنچنے کے بعد۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا اور روس دوست کیوں بننا چاہتے ہیں؟

ایک مزدور نے بتایا کہ اسے شرمندگی ہوئی جب اسے پتا چلا کہ وسطی ایشیا سے آنے والے مزدور، جو کم محنت کرتے تھے، 5 گنا زیادہ کماتے ہیں، رپورٹ میں رہائش کی صورتحال کو بھی نہایت بدتر قراردیا گیا ہے، انہیں زیادہ تعداد میں کیڑوں سے متاثرشپنگ کنٹینرزاوربعض اوقات نامکمل عمارتوں کے فرش پر سونا پڑتا ہے۔

شمالی کوریائی حکام نے مزدوروں کو کام کی جگہ سے باہر نکلنے کے نایاب مواقع بھی محدود کر دیے ہیں، جنوبی کوریا کے مطابق روس سے فرار ہو کر جنوبی کوریا پہنچنے والے مزدوروں کی تعداد 2022 میں 20 تھی جو 2023 میں گھٹ کر صرف 10 رہ گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟