شمالی کوریا اور روس دوست کیوں بننا چاہتے ہیں؟

جمعہ 15 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا دورہ روس کے دوران صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقاتوں کا سلسلہ ایک دوسرے کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے دشمن مشترک ہیں، اس کے علاوہ چین کے ساتھ دوستی اور مختلف معاملات میں چین پر دونوں کا انحصار بھی قدر مشترک ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے دورہ روس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے اسلحے کے معاہدے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اس دورے کی سب سے اہم وجہ یہ سامنے آرہی ہے کہ نارتھ کوریا روس کو ہتھیار دینا چاہتا ہے، تاکہ یوکرین جنگ میں روس کا ساتھ دے سکے اور بدلے میں روس نارتھ کوریا کو خوراک اور ٹیکنالوجی فراہم کرے جس سے وہ مزید ایٹمی ہتھیاربنا سکے۔

عرصے دراز سے پابندیوں کا شکار رہنے، بارڈر بند ہونے کے باعث نارتھ کوریا، خوراک، تیل اور ٹیکنالوجی سے محروم ہے، روس سے ایسی ٹیکنالوجی کی منتقلی چاہتا ہے جو اسے نیوکلیئر ہتھار بنانے میں مدد دے سکے۔

ویسے تو دونوں ممالک ہی عرصہ دراز سے پابندیوں کا شکار ہیں اور دوںوں کو ہی عالمی پابندیوں کا سامنا ہے، لیکن یہاں روس کا معاملہ تھوڑا الگ ہے، وہ اس وقت یوکرین جنگ میں پھنسا ہوا ہے، ساتھ ہی مغربی دنیا کے سخت رویے کا بھی سامنا کررہا ہے۔

اس دورے کی دوسری سب سے بڑی وجہ نارتھ کوریا اور امریکا کے تعلقات ہیں جو  2019 میں کم جونگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے بعد خراب ہونا شروع ہوگئے، کیونکہ امریکا کا جھکاؤ ساؤتھ کوریا کی طرف بڑھ گیا، امریکا کی جانب سے ساؤتھ کوریا میں فوجی مشقیں کرنا، ہتھیار فراہم کرنا اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا نارتھ کوریا کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

اس دورے کی سب سے بڑی اور تیسری وجہ دنیا بھرمیں پابندیوں کے باوجود روس اور نارتھ کوریا کے چین کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں، نارتھ کوریا کا تو زیادہ انحصار چین پر ہی ہے لیکن روس بھی اپنی تجارتی سرگرمیوں کو زیادہ تر چین کے ذریعے ہی انجام دیتا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق نارتھ کوریا یا روس کے درمیان ہتھیاروں کا معاہدہ طے ہوتا ہے یا نہیں لیکن روس نے امریکا کو جو پیغام پہنچانا تھا پہنچا دیا ہے کہ روس اپنی مرضی سے دوستی کا تعین کرسکتا ہے اور کوئی اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔

دوسری جانب نارتھ کوریا نے بھی روس کا دورہ کرنے سے ساؤتھ کوریا کو وارننگ کے طور پر ایک پیغام دیا ہے کہ امریکا کے قریب جانے سے مسائل مزید بڑھیں گے۔

روسی میڈیا کے مطابق ملاقات میں شمالی کوریا نے روس کو ہتھیاروں کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن بدلے میں جدید خلائی ٹیکنالوجی کے علاوہ خوراک کی مد میں امداد کی بھی خواہش ظاہر کی ہے۔

جس پر روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ بدلے میں شمالی کوریا کو سیٹلائٹ تیار کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغرب کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات اب تک کے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم