ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ ایک عالمی دروازہ ہے جہاں ہر چیز چند کلکس کے فاصلے پر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا انٹرنیٹ الگ ہے اور سب سے بڑی دیوار جو ہمیں باقی دنیا کے آن لائن مواد سے دور رکھتی ہے وہ ہے زبان۔ یوں سمجھیں کہ اصل انٹرنیٹ سے ہماری روشناسی کے بیچ ہماری زبان آڑے آجاتی ہے۔ کیسے؟ آئیے مل کر سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہائیوں پہلے دنیا کو چیٹنگ کے ذریعے جوڑنے والی کمپنی اے او ایل کا انٹرنیٹ باب بند ہوگیا
بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ تو سب کے لیے ہے مگر سب کی زبان میں نہیں۔ جب ہم گوگل پر کچھ تلاش کرتے ہیں یا یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں تو ہم اپنی مادری زبان یا وہ زبان استعمال کرتے ہیں جسے ہم سمجھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو مواد کسی اور زبان میں ہے وہ نہ صرف ہم تک پہنچتا نہیں بلکہ پلیٹ فارم کے الگورِتھمز بھی اسے ہمیں دکھانے کی کوشش نہیں کرتے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ہمارا تجربہ زبان کے فلٹر سے گزرتا ہے۔ ہمیں وہی دکھایا جاتا ہے جسے ہم سمجھ سکتے ہیں اور جس سے ہم جذباتی یا ثقافتی طور پر جڑے ہوئے ہوں۔ باقی سب خواہ وہ کتنا ہی اہم، دلچسپ یا مختلف کیوں نہ ہو ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
یوٹیوب ایک جیسا نہیں، زبان بدلتے ہی دنیا بدل جاتی ہے
یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمہرسٹ کی ٹیم نے انگریزی، ہندی (اردو)، روسی اور ہسپانوی زبان میں یوٹیوب کا تجزیہ کیا اور حیران کن انکشافات سامنے آئے۔
ہندی یوٹیوب سب سے مختلف نکلا۔ سنہ 2023 میں ہندی زبان میں اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کی تعداد تمام سالوں سے زیادہ تھی یعنی صرف ایک سال میں ہندی مواد کا طوفان آ گیا۔
ہندی ویڈیوز کی اوسط لمبائی صرف 29 سیکنڈ ہے جب کہ انگریزی، ہسپانوی اور روسی ویڈیوز 1.5 سے 2.5 منٹ تک کی ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے: روس میں انٹرنیٹ پر نئی قدغنیں، واٹس ایپ پر پابندی کا امکان
ہندی ویڈیوز میں سے 58 فیصد صرف ’شورٹس‘ ہوتی ہیں۔ وہی مختصر ویڈیوز جن کا انداز ٹک ٹاک جیسا ہے۔ دوسری زبانوں میں یہ شرح صرف 25 سے 31 فیصد ہے۔
ٹک ٹاک پر پابندی اور یوٹیوب کی چالاکی
سنہ 2020 میں جب بھارت نے چین سے کشیدگی کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی تو کروڑوں صارفین ایک لمحے میں اپنے مواد، مداحوں اور اظہارِ خیال کے پلیٹ فارم سے محروم ہو گئے۔ یوٹیوب نے اس خلا کو فوراً پہچانا اور ’یو ٹیوب شورٹس‘ کو سب سے پہلے بھارتی مارکیٹ میں لانچ کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہندی یوٹیوب نے ایک نئی شناخت بنا لی۔ مختصر، تیز اور ذاتی نوعیت کا مواد جو کسی حد تک نجی پیغام رسانی کے انداز میں بھی استعمال ہونے لگا۔
صرف مقبول ویڈیوز ہی سب کچھ نہیں
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اگرچہ ہندی یوٹیوب پر 0.1 فیصد ویڈیوز کو ہی 79 فیصد ویوز ملتے ہیں یعنی شدید عدم مساوات لیکن کم دیکھی جانے والی ویڈیوز کو زیادہ لائکس ملتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ویڈیوز شاید کم دیکھی جاتی ہیں مگر ان کا اثر، جذباتی تعلق اور قدر زیادہ ہے۔
انٹرنیٹ ایک مشترکہ دنیا یا الگ الگ کائناتیں
یہ تصور کہ پوری دنیا ایک جیسے پلیٹ فارمز کو ایک جیسے انداز میں استعمال کرتی ہے ایک مغالطہ ہے۔ جیسے ہر قوم کی موسیقی، کھانا اور ادب الگ ہوتا ہے ویسے ہی ان کا انٹرنیٹ بھی الگ ہوتا ہے۔
زبان صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل دروازہ ہے اور اگر آپ صرف ایک زبان سمجھتے ہیں تو آپ صرف ایک انٹرنیٹ دیکھ رہے ہیں باقی سب ابھی آپ سے چھپا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا بغیر انٹرنیٹ کے چلنے والا ‘بٹ چیٹ’ واٹس ایپ کا متبادل بننے جا رہا ہے؟
اس تحقیق نے انٹرنیٹ کے استعمال میں زبان، ثقافت اور معاشرتی رویوں کے اثرات کو اجاگر کیا ہے۔ ہندی (یا اردو) یوٹیوب کی مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا نہ صرف مختلف انداز سے دیکھی جاتی ہے بلکہ مختلف انداز سے محسوس بھی کی جاتی ہے۔
شاید اب وقت ہے کہ ہم انٹرنیٹ کو صرف ایک عالمی نیٹ ورک نہیں بلکہ زبانوں میں بٹی ہوئی کئی دنیاؤں کے مجموعے کے طور پر دیکھیں۔














