ملائیشیا کی ریاست ترنگانو میں نئی شرعی قوانین کے تحت جمعہ کی نماز چھوڑنے والوں کو اب پہلے سے کہیں سخت سزاؤں کا سامنا ہوگا۔
منظور شدہ نئے قوانین کے مطابق بغیر کسی جائز وجہ کے جمعہ کی نماز پہلی بار ترک کرنے والے مردوں کو 2 سال تک قید، 3 ہزار رنگٹ (527 برطانوی پاؤنڈ) جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ یہ قانون اس ہفتے سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔
یہ قانون پہلی بار 2001 میں نافذ ہوا تھا اور 2016 میں اس میں ترامیم کی گئیں جن کے تحت رمضان کی بے حرمتی یا عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے جیسے جرائم کے لیے سخت سزائیں متعارف کرائی گئیں۔ اس سے پہلے 3 جمعے مسلسل غیر حاضر رہنے والے افراد کو 6 ماہ قید یا ایک ہزار رنگٹ (176 برطانوی پاؤنڈ) تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: فیکٹ چیک، سڑک پر نماز پڑھتے محمد رضوان کی ویڈیو کتنی پرانی ہے؟
ترنگانو کی حکمران جماعت پان ملائیشین اسلامک پارٹی (پاس) نے پیر کو نئے قوانین کا اعلان کیا۔ ریاستی حکام کے مطابق مساجد میں بورڈز کے ذریعے نمازیوں کو آگاہ کیا جائے گا جبکہ نفاذ کے لیے عوامی شکایات اور مذہبی گشت ٹیموں کی مدد لی جائے گی جو ترنگانو اسلامک افیئرز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کریں گی۔
ریاستی اسمبلی کے رکن محمد خلیل عبدالحادی نے وضاحت کی کہ یہ سزائیں صرف آخری حربے کے طور پر دی جائیں گی۔ ان کے بقول جمعہ کی نماز نہ صرف مذہبی فریضہ ہے بلکہ مسلمانوں میں اطاعت اور اتحاد کی علامت بھی ہے، اسی لیے اس کی اہمیت اجاگر کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں نے ان قوانین کو سخت گیر قرار دیا ہے۔ ایشیا ہیومن رائٹس اینڈ لیبر ایڈووکیٹس کے ڈائریکٹر فل رابرٹسن کے مطابق اس طرح کے قوانین اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: محمد رضوان کی پریکٹس سیشن کے دوران فینز کو نماز پڑھنے کی تلقین، ویڈیو وائرل
ملائیشیا میں اسلام ریاستی مذہب ہے اور شرعی عدالتیں صرف مسلمانوں کے خاندانی اور مذہبی معاملات پر اختیار رکھتی ہیں۔ ملک کی آبادی 3 کروڑ 40 لاکھ ہے جن میں تقریباً دو تہائی مسلمان ہیں۔
ترنگانو سمیت چار ریاستوں میں مذہبی جماعت پاس کی حکومت قائم ہے اور وہ مذہبی قوانین کو مزید سخت کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پارٹی کے پاس ترنگانو اسمبلی کی تمام 32 نشستیں ہیں اور کوئی اپوزیشن موجود نہیں۔ یاد رہے کہ 2021 میں ہمسایہ ریاست کلانتان نے بھی شرعی فوجداری قوانین میں توسیع کی کوشش کی تھی تاہم وفاقی عدالت نے 2024 میں ان قوانین کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے بعد پاس کے حامیوں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا۔














