بیٹے کی فائرنگ سے زخمی جے یو آئی ملاکنڈ کے ضلعی امیر مفتی کفایت اللہ دم توڑ گئے

جمعرات 28 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے ضلع ملاکنڈ میں جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے امیر مفتی کفایت اللّٰہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

مفتی کفایت اللّٰہ بیٹے کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے کے بعد اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں وہ آج دم توڑ گئے۔

مزید پڑھیں:چیف جسٹس بتائیں سانحہ 9 مئی کے ملزمان اب تک آزاد کیوں ہیں؟ علامہ طاہر اشرفی

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ملاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا مفتی کفایت اللہ کے گھر میں فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ مفتی کفایت اللہ اہلیہ سمیت زخمی ہوگئے تھے۔

لیویز حکام کے مطابق واقعہ مفتی کفایت اللہ کے گھر پیش آیا، جہاں ان کے بیٹے نے فائرنگ کی۔ اس واقعے میں مفتی کفایت اللہ کا بیٹا عصمت اللہ اور بیٹی سلمیٰ بی بی جاں بحق ہوئے،جاں بحق ہونے والا بیٹا عصمت اللہ لیویز اہلکار تھا، افسوسناک واقعے میں مفتی کفایت اللہ اور ان کی اہلیہ سمیت ایک اور بیٹا اور بیٹی شدید زخمی ہوئے۔

مزید پڑھیں:بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر کارروائی کی جائے، طاہر اشرفی کا مطالبہ

ڈپٹی کمشنر حامد الرحمان کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بگ باس 19 کے فاتح گورو کھنہ کو تاحال انعامی رقم نہ مل سکی

بھارت کے سابق معروف چائلڈ اداکار کی لاش گھر سے برآمد

سعودی عرب: کنگ فیصل اسپتال نے کڈنی پیئرڈ ڈونیشن ٹرانسپلانٹس میں عالمی اعزاز حاصل کر لیا

5جی اسپیکٹرم نیلامی مکمل: ٹیکنالوجی کا نیا میدان پاکستان کے لیے کون سے مواقع پیدا کر سکتا ہے؟

اسلام آباد میں یوم القدس: سیکیورٹی خدشات کے باعث کون سی سڑکیں بند، کون سے راستے کھلے؟

ویڈیو

بادشاہی مسجد: فن اور تاریخ کا حسین امتزاج

روایتوں کے شہر میں نئی روایت: خواتین نے سنبھال لیا ٹریفک کا نظام

سورہ الکہف: آج کے فتنوں میں رہنمائی کا سر چشمہ

کالم / تجزیہ

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

ٹرمپ کے ممکنہ اہداف اور دم توڑتی امیدیں

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت