ایم اے جناح روڈ پٹاخہ گودام دھماکا، متاثرہ خاندان کا سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

پیر 1 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع پٹاخوں کے گودام میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے معاملے پر متاثرہ خاندان نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

جاں بحق نوجوان کی والدہ اور بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 21 اگست کو غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے سے ایک بیٹا جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا، لیکن اس واقعے کے بعد بھی دھماکا خیز مواد نہ ہٹایا گیا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: پٹاخوں کے گودام میں آتشزدگی، دھماکوں کی آوازیں، 2 افراد جاں بحق، 33 زخمی

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ گنجان آباد علاقے میں آتش گیر اور دھماکا خیز مواد کی موجودگی سے مکینوں اور دکانداروں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ عمارت میں میڈیکل سپلائیز کی مارکیٹ بھی قائم ہے جہاں بزرگ اور بیمار افراد خریداری کے لیے آتے ہیں، اس کے باوجود انتظامیہ غیر قانونی فیکٹری اور گودام کی سہولت کاری کر رہی ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ دھماکے کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود تاحال دھماکا خیز مواد محفوظ طریقے سے تلف نہیں کیا گیا۔ ایکسپلوسیو ایکٹ کے تحت کسی عوامی مقام پر دھماکا خیز مواد کی تیاری یا ذخیرہ کرنے کا لائسنس بھی نہیں دیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں:کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ہینڈ گرنیڈ پھٹنے سے دھماکا، 3 افراد جاں بحق

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پٹاخوں کے گوداموں اور فیکٹریوں کو شہری علاقوں سے منتقل کرنے کا حکم دیا جائے، ذمہ داروں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی یا فیکٹ فائنڈنگ کمیشن تشکیل دیا جائے اور فوری طور پر گودام میں موجود خطرناک مواد کو تلف کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

درخواست میں سندھ حکومت، کمشنر کراچی، ڈپٹی کمشنر جنوبی، ڈی جی سیپا اور سول ڈیفنس سمیت دیگر اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟