انڈونیشیا کی دارالحکومت جكارتہ میں سینکڑوں خواتین نے حکومت کے عہدے داروں کی مراعات اور پولیس کے زیادتی کے خلاف احتجاج کیا، جس دوران انہوں نے جھاڑو اٹھا کر اصلاحات کے لیے مطالبات کا اظہار کیا۔ احتجاج کے منتظمین کے مطابق جھاڑو ریاستی بدعنوانی اور سیکیورٹی فورسز کے ظلم کو صاف کرنے کی علامت ہے۔
مزید پڑھیں: انڈونیشیا میں 6.0 شدت کا زلزلہ، درجنوں افراد زخمی

احتجاج پچھلے ہفتے سے طلبا، کارکنان اور حقوق کے گروپوں کی جانب سے شروع ہوئے اور ملک گیر سطح تک پھیل گئے، جس دوران پولیس کی کارروائی میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے۔ طلبا اور شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ گرفتار مظاہرین کو رہا کیا جائے اور پولیس کی زیادتی کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی ملاقات، دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق
پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے مظاہرین کی قیادت سے ملاقات کی اور ارکان پارلیمنٹ کی مراعات کا جائزہ لینے اور شفافیت کے اقدامات کرنے کا اعلان کیا۔ فِچ ریٹنگز نے خبردار کیا کہ جاری احتجاج ملکی معیشت اور مالی استحکام پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ سماجی اور سیاسی دباو بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے۔













