وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی کراچی کے دورے پر ہیں جہاں وہ ریلوے کے مختلف منصوبوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
جمعرات کے روز حنیف عباسی نے ریلویز کی سینئر انتظامیہ کے ہمراہ کراچی پورٹ ٹرسٹ کا دورہ کیا۔ کے پی ٹی آمد پر چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل عتیق الرحمان عابد، ستارہ امتیاز (ملٹری)، نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر کے پی ٹی کی سینئر انتظامیہ بھی چیئرمین کے ہمراہ موجود رہی۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے نظام میں بہتری کے لیے انقلابی اقدامات جاری ہیں، وزیر ریلوے حنیف عباسی
ریلویز وفد کے دورے کا مقصد ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اور مشرقی و مغربی وارو یارڈ کی تجدید اور آپریشنز سے متعلق اہم امور پر پیشرفت کا جائزہ لینا اور باہمی مشاورت تھا۔
ایم ایل ون کی منظوری اور افتتاح کی تاریخ
وفاقی وزیر نے آگاہ کیا کہ ایم ایل ون پر کام جاری ہے جسے پنجاب حکومت نے منظور کر لیا ہے، اور اس کا افتتاح جون 2026 میں کراچی کینٹ اسٹیشن سے کیا جائے گا۔
ریکوڈک، مزار شریف اور عالمی ربط کا ویژن
انہوں نے بتایا کہ 2028 میں ریکوڈک منصوبہ بھی میچور ہو جائے گا، جبکہ اگر پاکستان مزار شریف تک ریل نظام کو وسعت دے پاتا ہے تو یورپ اور وسطی ایشیا تک رسائی ممکن ہوسکے گی۔ اس مقصد کے لیے 10 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاہور پاکستان کی پہلی بلٹ چلانے کی تیاری، سفر کتنا کم ہوجائے گا؟
چیئرمین کے پی ٹی نے بتایا کہ کراچی پورٹ اپنی پوری استعداد کے باوجود صرف 50 فیصد کارگو ہینڈل کر پارہا ہے کیونکہ سڑکوں پر ٹریفک کا بوجھ برداشت سے باہر ہو چکا ہے۔ ریلویز کا جدید نظام ہی اس مسئلے کا مؤثر حل فراہم کر سکتا ہے۔
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی تفصیلات
چیئرمین نے بتایا کہ 52 کلومیٹر طویل ریلوے کاریڈور مشرقی و مغربی وارو یارڈز کو پپری مارشلنگ یارڈ کے لاجسٹک پارک سے منسلک کرے گا۔ پہلا فیز فائنل ہو چکا ہے، اور کے پی ٹی ریلویز کا معاون ہوگا۔
دوسرے فیز کے لیے این او سی کا انتظار
چیئرمین ریلویز سید مظہر علی شاہ نے بتایا کہ دوسرے فیز کے حوالے سے ٹرمینلز کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ چیئرمین کے پی ٹی نے نشاندہی کی کہ دوسرے فیز کے لیے ریلویز سے این او سی طلب کی گئی تھی جو تاحال موصول نہیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سی پیک منصوبے کے تحت کراچی تا پشاور ریلوے ٹریک کا انجینیئرنگ ڈیزائن مکمل
چیئرمین نے بتایا کہ 1964 میں کے پی ٹی نے کراچی سرکلر ریلویز کے لیے 64 ایکڑ زمین ماری پور میں فراہم کی تھی، لیکن 1998 میں منصوبہ ختم کر دیا گیا اور زمین کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔
ٹرمینلز کا دورہ اور بندرگاہی آپریشنز کا معائنہ
وفد نے چیئرمین کے پی ٹی کی سربراہی میں کراچی گیٹ وے ٹرمینل اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز کا دورہ کیا، جبکہ بعد ازاں ہاربر فیری کروز کے ذریعے کراچی پورٹ کے آپریشنز کا بھی معائنہ کیا گیا۔














