روس-چین قربتیں، کیا دنیا، مغرب کے بغیر آگے بڑھنے کو تیار ہے؟

ہفتہ 6 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تیانجن میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اجلاس محض سفارتی سرگرمی نہیں تھا بلکہ علامتی طور پر ایک بڑے سیاسی پیغام کا حامل بھی تھا۔

یہ اجلاس چین کی جنگِ عظیم دوئم کی یادگار تقاریب کے تناظر میں منعقد ہوا جس نے اسے مزید وزن دیا۔

اس اجلاس کو گزشتہ برس کے BRICS سربراہی اجلاس کے مساوی اہمیت دی گئی۔

مغرب کی مرکزیت کا زوال

طویل عرصے تک دنیا کے بڑے فیصلے مغرب کی موجودگی اور منظوری کے بغیر ممکن نہیں سمجھے جاتے تھے۔

جی-7 اور جی-20 جیسے فورمز کو عالمی وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب یہ تاثر بدل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بیجنگ میں نیا عالمی نظام؟ پیوٹن اور شی کا مشترکہ وژن

 BRICS اور SCO جیسے ادارے اب اپنی اہمیت خود بنا رہے ہیں اور نئے ممالک ان میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

روس کے لیے الگ تھلگ ہونے کی بجائے مرکزیت

یوکرین تنازع کے بعد مغرب نے روس کو تنہا کرنے کی کوشش کی مگر اس کا نتیجہ الٹا نکلا۔

اب روس غیر مغربی دنیا کے لیے ایک مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی اقتصادی فورم میں واضح کیا کہ روس کے دروازے مغرب پر بند نہیں مگر مستقبل کے تعلقات کا جھکاؤ چین، بھارت اور گلوبل ساؤتھ کی طرف ہے۔

مغرب کے خلاف نہیں، بلکہ اس کے بغیر

ماسکو میں اب یہ نعرہ حقیقت اختیار کر رہا ہے کہ نیا عالمی نظام مغرب کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔

چین اور روس مل کر ایسے ادارے بنا رہے ہیں جو عالمی مالیاتی ڈھانچوں (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک) کے متبادل کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

ایس سی او ڈیولپمنٹ بینک اور BRICS نیو ڈیولپمنٹ بینک اسی سمت کی نشان دہی کرتے ہیں۔

امریکا کی دباؤ کی پالیسی اور ردعمل

ٹرمپ انتظامیہ کی براہِ راست اور سخت پالیسی نے اتحادیوں کو وقتی طور پر مطیع کیا، لیکن آزاد ریاستوں نے اس دباؤ کو مسترد کیا۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک SCO اور BRICS میں شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ کسی ایک طاقت کے ساتھ غیر مشروط وابستگی نہیں بلکہ مغربی بالادستی کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔

چین کا ’عالمی حکمرانی کا اقدام

ایس سی او اجلاس میں صدر شی جن پنگ نے ’گلوبل گورننس انیشییٹو‘ کا اعلان کیا جسے روس نے مکمل حمایت دی۔

یہ بھی پڑھیں:’تیسری عالمی جنگ شروع ہو چکی‘، دیمیتری ترینن کا تجزیہ

یہ مغرب مخالف سازش نہیں بلکہ ایک متوازن عالمی ڈھانچے کی جستجو ہے، جہاں فیصلہ سازی صرف چند مغربی دارالحکومتوں تک محدود نہ ہو۔

دنیا کا نیا منظرنامہ

یہ اب نیا سرد جنگی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک متنوع اور کثیر قطبی دنیا ہے۔ غیر مغربی ریاستیں اب اپنی ترجیحات خود طے کر رہی ہیں، اپنے ادارے قائم کر رہی ہیں اور بغیر مغرب کے مشترکہ اقدامات کر رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آج مقدمات کی سماعتیں منسوخ کر دیں

ایرانی کارگو جہاز پر امریکی کارروائی، سینٹکام نے قبضے اور حملے کی ویڈیو جاری کر دی

اسلام آباد: ریڈ زون میں قائم تمام وفاقی دفاتر میں آج ورک فرام ہوم کا اعلان

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ویڈیو

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

پاکستان مسلم دنیا کا قائد اور اقوام عالم میں قابل اعتبار ثالث

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟