غزہ میں جاری جنگ کے خلاف اسٹاک ہوم میں اسرائیل کے خلاف بڑا مظاہرہ کیا گیا، جبکہ دوسری جانب تیونس سے غزہ کے لیے عالمی ’سُمود فلوٹیلا‘ روانہ ہو گئی ہے، جس کا مقصد محصور فلسطینیوں تک خوراک اور طبی امداد پہنچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:تیونس کے پانیوں میں غزہ جانے والے فلوٹیلا پر ایک بار پھر ڈرون حملہ، عملہ محفوظ رہا
اسٹاک ہوم کے اوڈن پلان ضلع سے شروع ہونے والے مظاہرے میں سیکڑوں افراد شریک ہوئے۔
مظاہرین نے ’نسل کشی نامنظور‘ اور ’فلسطین کو آزادی دو‘ جیسے بینرز اٹھا رکھے تھے اور بعدازاں مارچ کرتے ہوئے وہ سویڈش وزارتِ خارجہ تک پہنچے۔
🚨BREAKING:
The Global Sumud (Steadfastness) Flotilla has set sail from Bizerte, Tunisia, heading to Gaza to break the Israeli siege. The Martyr Anas Al-Sharif ship is part of the convoy. The ships carry aid & free people from around the world united for the Palestinian cause. pic.twitter.com/79AUJHSMcu
— Suppressed News. (@SuppressedNws) September 13, 2025
سویڈش امن کارکن مالن ایکرٹرم نے خطاب میں کہا کہ غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ الزام بالکل مضحکہ خیز ہے کہ تمام تر ذمہ داری حماس پر عائد کی جائے، کیونکہ اسرائیل کے حملے اکتوبر 7 سے کہیں پہلے شروع ہو چکے تھے۔

انہوں نے یورپی سیاست دانوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات سے گریزاں ہیں۔
ادھر تیونس کے شمالی شہر بزرت کے بندرگاہ سے ’گلوبل سُمود فلوٹیلا‘ کا پہلا جہاز غزہ کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 40 جہازوں اور 44 ممالک کے 800 سے زائد کارکنوں پر مشتمل یہ بیڑہ بحیرہ روم کے راستے فلسطینیوں تک امدادی سامان پہنچائے گا۔
بقیہ جہاز ساحل پر اکٹھے ہونے کے بعد اجتماعی طور پر غزہ کی جانب روانہ ہوں گے۔













