جمہوریہ کانگو کے وسطی صوبے کاسائی میں ایبولا کی حالیہ وبا سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق اب تک تصدیق شدہ اور مشتبہ 48 کیسز میں سے 31 مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
وبا کا آغاز اور تیزی سے اموات
یہ وبا 4 ستمبر کو بُلاپے ہیلتھ زون میں اعلان کی گئی تھی۔ اتوار تک ہلاکتوں کی تعداد 16 تھی جو جمعرات تک بڑھ کر 31 ہو گئی۔

ابتدائی مریض ایک 34 سالہ حاملہ خاتون تھیں جنہیں 10 اگست کو علامات ظاہر ہوئیں اور 26 اگست کو ان کا انتقال ہو گیا۔ انہیں کمیونٹی میں دفن کیا گیا لیکن حفاظتی تدابیر پر عمل نہ ہونے سے مرض پھیل گیا۔
طبی عملہ بھی متاثر
ہلاکتوں میں کم از کم چار ہیلتھ ورکر بھی شامل ہیں جن میں ایک نرس، ایک لیب ٹیکنیشن اور ایک دوسری نرس بھی شامل ہے۔ یہ سب مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران وائرس کا شکار ہوئے۔

علاج اور ویکسینیشن کی کوششیں
WHO کے مطابق بُلاپے میں 34 بستروں پر مشتمل خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے جہاں 16 مریض زیر علاج ہیں، جبکہ دو مریض صحت یاب ہو کر گھر جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین جنگ: روسی فوجی تیزی سے ایڈز کا شکار ہونے لگے، ہولناک اسباب کا انکشاف
اب تک 523 فرنٹ لائن ورکرز اور متاثرہ افراد کے قریبی افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ رابطہ رکھنے والے تقریباً 943 افراد میں سے 90 فیصد کی نگرانی جاری ہے جو 2 ہفتے قبل صرف 19 فیصد تھی۔
فنڈنگ اور خطرات
WHO کا کہنا ہے کہ وبا کو روکنے کے لیے کم از کم 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر بجٹ مکمل طور پر فنڈ ہو گیا تو نہ صرف وبا پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ زندگیاں بھی بچائی جا سکیں گی۔

واضح رہے کہ ایبولا ایک خطرناک اور اکثر مہلک مرض ہے جس کی اوسط شرح اموات 50 فیصد تک ہے۔ یہ 1976 میں پہلی بار کانگو میں دریافت ہوا تھا اور اب تک وہاں 16 ویں بار سامنے آیا ہے۔ بُلاپے میں اس سے پہلے آخری بار 2007 میں وبا رپورٹ ہوئی تھی۔













