نیپال میں جمعرات کو عام انتخابات منعقد ہورہے ہیں، جس میں ووٹرز 275 رکنی پارلیمنٹ کے لیے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔
یہ انتخابات گزشتہ ستمبر میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے بعد پہلے انتخابات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال نے 100 روپے کا نیا نوٹ جاری کردیا، بھارت کیوں بوکھلا گیا؟
ان مظاہروں میں کرپشن کے خاتمے، روزگار کے زیادہ مواقع اور صاف شفاف سیاست کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران 77 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد حکومت کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔
Election Commissioner Janaki Kumari Tuladhar has called on federal, provincial, and local governments, political parties, candidates, and stakeholders to extend cooperation for the smooth conduct of the elections.https://t.co/h69wHDl7Hn#Khabarhub #electionCommission #Nepal
— Khabarhub English (@Khabarhub_Eng) March 1, 2026
سیاسی عدم استحکام اور ووٹرز کی بڑی تعداد
چین اور بھارت کے درمیان واقع چھوٹا سا ہمالیائی ملک نیپال کئی دہائیوں سے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔
1990 کے بعد سے اب تک 32 مرتبہ حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں، جس کے باعث زیادہ تر زرعی معیشت کمزور پڑ گئی اور لاکھوں افراد کو روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک جانا پڑا۔
مزید پڑھیں: نیپال کے سرحدی شہر برگنج میں کشیدگی، مسجد کی بے حرمتی کے بعد کرفیو نافذ
نیپال کی 3 کروڑ آبادی میں سے تقریباً ایک کروڑ 90 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔
275 رکنی پارلیمنٹ کے لیے 165 ارکان براہِ راست منتخب ہوں گے جبکہ 110 نشستیں متناسب نمائندگی کے ذریعے پر کی جائیں گی۔

گزشتہ سال کے احتجاج کے بعد تقریباً 10 لاکھ نئے ووٹرز، جن میں اکثریت نوجوانوں کی ہے، انتخابی فہرستوں میں شامل کیے گئے ہیں۔
اس اضافے نے نیپال کے سیاسی نظام میں اصلاحات اور بہتر اجرتوں کے ساتھ باضابطہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے مطالبات کو مزید تقویت دی ہے۔
نوجوان ووٹر کی آواز
دارالحکومت کھٹمنڈو میں ملازمت پیشہ 22 سالہ مصور بیباس پریار ووٹ ڈالنے کے لیے جمعرات کو اپنے آبائی ضلع گورکھا واپس جائیں گے۔
’ہمیں نئے لوگ چاہییں جو عوام کو روزگار دیں، زراعت میں اصلاحات کریں اور محنت کشوں کو مناسب معاوضہ ادا کریں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پرانے سیاستدانوں نے صرف کرپشن کے ذریعے اپنے لیے دولت اکٹھی کی اور عوام کے لیے کچھ نہیں کیا۔
پرانی جماعتیں بمقابلہ نئی قیادت
انتخابی دوڑ میں روایتی جماعتیں بھی شامل ہیں، جن میں نیپالی کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال شامل ہیں، جو دہائیوں سے قومی سیاست پر حاوی رہی ہیں۔
تاہم بیشتر تجزیہ کاروں کے مطابق سینٹرلسٹ راشٹریہ سواتنترا پارٹی اس وقت سب سے آگے دکھائی دیتی ہے۔
ریپر سے سیاستدان بننے والے 35 سالہ پلیندرا شاہ نے جنوری میں 3 سال پرانی اس جماعت میں شمولیت اختیار کی اور وزیرِ اعظم کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: ’جین زی‘ کے احتجاج نے نیپال کی معیشت کو بٹھا دیا، 586 ملین ڈالرز کا نقصان
دارالحکومت کھٹمنڈو کے سابق میئر شاہ ستمبر کے احتجاجی مظاہروں کا نمایاں چہرہ بن کر ابھرے تھے۔
ان کا مقابلہ یو ایم ایل کے 74 سالہ رہنما کے پی شرما اولی سے ہے، جو 4 مرتبہ وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں اور ستمبر کے مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد مستعفی ہو گئے تھے۔
بنگلہ دیش سے موازنہ اور انتخابی چیلنج
نیپال کا یہ انتخاب بنگلہ دیش کے بعد خطے میں دوسرا بڑا انتخاب ہے جو جنریشن زی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں منعقد ہو رہا ہے۔
تاہم نیپال ڈیموکریسی فاؤنڈیشن کے بانی جے نشانت کے مطابق دونوں ممالک کے حالات مختلف ہیں۔

’کسی بھی انتخاب کے نتائج 3 چیزیں طے کرتی ہیں: ایجنڈا، قیادت اور تنظیم، یہی وہ نکتہ ہے جہاں نیپال بنگلہ دیش سے مختلف ہو سکتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: ایک لاکھ سے زائد بصارت سے محروم افراد کی بینائی لوٹانے والے نیپالی ڈاکٹر کون ہیں؟
ان کے مطابق، بنگلہ دیش میں جولائی 2024 کے طلبا رہنماؤں کے پاس واضح ایجنڈا اور پہچانی جانے والی شخصیات تو تھیں، لیکن مضبوط اور آزمودہ نچلی سطح کی تنظیم نہیں تھی۔
فروری میں بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں نوجوانوں کی قیادت والی مرکزی جماعت 300 رکنی پارلیمنٹ میں صرف 6 نشستیں جیت سکی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سڑکوں پر ملنے والی عوامی حمایت کو ووٹوں میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔














