ایپل نے اپنی ایپ اسٹور سے وہ ایپس ہٹا دی ہیں جو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) ایجنٹس کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاع دینے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں، غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ممبئی ایپل اسٹور پر نئے آئی فون 17 کے لیے دھینگا مشتی
ایپل کی یہ ایپس گزشتہ چند ماہ میں تیزی سے مقبول ہو گئی تھیں کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن مہم ملک بھر کے شہروں میں زور پکڑ رہی تھی۔ تاہم حکام نے ان ایپس کو افسران کی جان کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب گزشتہ ماہ ٹیکساس میں ICE کے ایک مرکز پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں 2 حراستی افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور نے اس واقعے سے قبل اسی نوعیت کی ایک ایپ استعمال کی تھی۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ICE ٹریکنگ ایپس، جن میں مقبول ترین ایپ ICEBlock بھی شامل ہے، اب ایپل اسٹور پر دستیاب نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کی چیٹ جی پی ٹی طرز کی ایپ متعارف، نیکسٹ جنریشن ’سری‘ لانچ کرنے کی تیاری
امریکی اٹارنی جنرل پام بانڈی کے مطابق محکمہ انصاف نے آج ایپل سے رابطہ کر کے ICEBlock ایپ ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا، جس پر ایپل نے فوری عمل کیا۔
ایپل کا مؤقف ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موصولہ معلومات کے مطابق ICEBlock اور اسی نوعیت کی دیگر ایپس افسران کی حفاظت کے لیے خطرہ تھیں، اس لیے انہیں ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔














