اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ہوتے ہی انسانی امداد کی فراہمی کے لیے 60 روزہ منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت لاکھوں فلسطینیوں کو فوری مدد فراہم کی جائے گی۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہِ انسانی امداد ٹام فلیچر نے بتایا کہ ہمارا منصوبہ مکمل، جانچا ہوا اور تیار ہے۔ ہمارے پاس 1 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان موجود ہے، اور ہماری ٹیم پوری طرح متحرک ہے۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے مصر جائیں گے، غزہ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کا امکان
غزہ کی بڑی آبادی اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں سے متاثر ہو چکی ہے جبکہ غزہ کے کئی حصوں میں اقوامِ متحدہ نے قحط کی تصدیق کی ہے، جہاں درجنوں فلسطینی بھوک اور غذائی قلت سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
فلیچر کے مطابق اقوامِ متحدہ کا مقصد یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد روزانہ سینکڑوں ٹرک امداد لے کر غزہ میں داخل ہوں تاکہ غذائی بحران اور قحط پر قابو پایا جا سکے۔
منصوبے کے مطابق 21 لاکھ افراد کو خوراک فراہم کی جائے گی، 5 لاکھ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں اور افراد کو خصوصی غذائی امداد دی جائے گی۔ 2 لاکھ افراد کو نقد امداد دی جائے گی تاکہ وہ اپنی پسند کی اشیا خرید سکیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
اس کے علاوہ 14 لاکھ افراد کو صاف پانی، نکاسیٔ آب اور صفائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اقوامِ متحدہ پانی کے نظام کی بحالی، سیوریج پائپ لائنوں کی مرمت، کوڑا کرکٹ ہٹانے اور حفظانِ صحت کی اشیاء (صابن، شیمپو، سینیٹری پیڈ وغیرہ) کی فراہمی بھی یقینی بنائے گا۔
فلیچر نے بتایا کہ غزہ کے تباہ شدہ صحت کے نظام کو بھی بحال کیا جائے گا، جس میں ہنگامی طبی امداد، زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی صحت، نفسیاتی علاج اور دیگر خدمات شامل ہوں گی۔
اقوامِ متحدہ ہر ہفتے ہزاروں خیمے غزہ میں بھیجے گا اور 7 لاکھ بچوں کے لیے عارضی اسکول قائم کرے گا۔ فلیچر نے واضح کیا کہ منصوبے کی کامیابی کے لیے چند اہم شرائط ضروری ہیں، جن میں:
ہفتہ وار کم از کم 19 لاکھ لیٹر فیول کی فراہمی،
مزید پڑھیں: اسرائیل نے غزہ میں روزانہ کتنا جانی و مالی نقصان کیا؟
کھانا پکانے والی گیس کی ترسیل کی بحالی،
متعدد امدادی راستوں کی دستیابی،
اور امدادی قافلوں کی سیکیورٹی ضمانتیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فی الحال 4 ارب ڈالر کے اقوامِ متحدہ کے ہنگامی فنڈ کا صرف 28 فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے، جو ناکافی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے پاس فی الوقت 170,000 ٹن امدادی سامان اسرائیل، اردن، مصر اور قبرص میں محفوظ ہے، مگر فلیچر کے مطابق یہ جنگ بندی کے بعد ابتدائی 60 دن کے لیے بھی ناکافی ہوگا۔












