ذہنی مسائل میں مصنوعی ذہانت کا کردار، ماہرین نے خبردار کردیا

جمعہ 10 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے کے موقع پر ذہنی صحت کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی پلیٹ فارمز نے ذہنی دباؤ کے شکار افراد کے لیے فوری رہنمائی اور جذباتی سہارا فراہم کیا ہے، مگر اس رجحان کے ساتھ متعدد خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔

اے آئی کی سب سے بڑی خوبی یہی سمجھی جاتی ہے کہ یہ بغیر کسی تعصب کے فوری جواب دیتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اسے ایک ’’آن کال تھراپسٹ‘‘ کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔ ایک دبئی کے رہائشی نے گمنامی کی شرط پر بتایا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ بات چیت ان کے لیے جذباتی دباؤ کے اظہار کا ایک محفوظ ذریعہ بن گئی ہے۔ تاہم، وہ خود بھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا اے آئی کا یہ ساتھ ہمیشہ مفید اور صحت مند ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’اپنے دوست کو کیسے قتل کروں؟‘، چیٹ جی پی ٹی سے مدد مانگنے پر نوجوان گرفتار

ماہر نفسیات ڈاکٹر دکشا لانگانی کا کہنا ہے کہ اے آئی کی آسان دستیابی اور مفت خدمات نے اسے مقبول بنایا ہے، خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں ذہنی صحت کے علاج کی لاگت ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کے پاس مریض کے مکمل سیاق و سباق کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے غلط تشخیص کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ مزید برآں، اے آئی غیر لفظی اشارے جیسے جسمانی زبان کو سمجھنے سے قاصر ہے، جو کہ انسانی تھراپی کا اہم حصہ ہے۔

ذہنی صحت کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی تھراپی کا عمل محض بات چیت تک محدود نہیں بلکہ مریض کو خود غور و فکر اور جذباتی برداشت کی صلاحیت پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے، جو اے آئی پلیٹ فارمز فراہم نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں: مالی مشکلات سے تنگ ہیں؟ جانیے چیٹ جی پی ٹی کیسے آپ کی مدد کرسکتا ہے

حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ’اے آئی سائیکوسس‘ کے خطرے کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں لوگ اے آئی کو حقیقی اور باہمی تعلقات کی جگہ سمجھنے لگتے ہیں، بعض افراد اسے ’محبت‘ یا ’دیوتا‘ سمجھ بیٹھتے ہیں، جو ذہنی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے۔

سیم آلٹمین، چیف ایگزیکٹو آف اوپن اے آئی نے بھی خبردار کیا ہے کہ صارفین کو چیٹ جی پی ٹی جیسے اے آئی ماڈلز پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اے آئی بعض اوقات غلط باتیں گھڑ لیتا ہے۔ یہ وہ ٹیکنالوجی ہونی چاہیے جس پر آپ کم سے کم بھروسہ کریں۔

اس تناظر میں ماہرین کی رائے ہے کہ اے آئی ذہنی صحت کی مدد کے لیے ایک معاون ٹول ہو سکتا ہے لیکن انسانی تھراپسٹ کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ذہنی صحت کے مسائل کی پیچیدگی اور حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پیشہ ورانہ مدد حاصل کرنا ہر فرد کے لیے ضروری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حد سے زیادہ دعوے، کمزور نتائج: نیتن یاہو کو جنگ بندی پر شدید ردِعمل کا سامنا

پاکستان کی بہترین سفارتکاری، دنیا میں ہمیں جو تحسین مل رہی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی، وزیرخزانہ کی واشنگٹن میں گفتگو

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا