الحاقِ پاکستان کشمیریوں کی اصل منزل، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں اکثریت پی ٹی آئی کے لوگوں کی ہے، شاہ غلام قادر

جمعہ 12 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر اور سابق اسپیکر شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ الحاقِ پاکستان ہی کشمیریوں کی اصل منزل ہے اور اس مؤقف سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی‘ میں اکثریت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ افراد کی ہے۔

’وی نیوز‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شاہ غلام قادر نے آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال، کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک، مہاجرین کی نشستوں کے تنازع، ریاستی اداروں کے کردار، پاکستان سے الحاق کے نظریے اور آئندہ انتخابات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

کشمیر بنے گا پاکستان‘ آج بھی عوام کا نعرہ ہے

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے 99 فیصد عوام آج بھی’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں، تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے رجحانات کو فروغ دیا گیا جنہوں نے حقوق کی تحریک کے نام پر ریاستی ڈھانچے اور آئینی بنیادوں کو چیلنج کرنا شروع کر دیا۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کی اکثریت آج بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے پر قائم ہے۔ لائن آف کنٹرول پر واقع انتخابی حلقوں کے عوام مسلسل بھارتی خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: ایکشن کمیٹی پر پابندی کا فیصلہ درست، ریاستی امن پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، شاہ غلام قادر

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں بھارت کی ممکنہ جارحیت کی اطلاعات کے باوجود آزاد کشمیر میں پاک فوج اور ریاستِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے ریلیاں نکالی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے عوام کے پاس پاکستان کے سوا کوئی دوسرا قابلِ عمل راستہ موجود نہیں، اسی لیے الحاقِ پاکستان کا نظریہ آج بھی مضبوط ہے۔

2021 کے انتخابات اور تحریکِ انصاف کے عروج پر سوالات

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر نے 2021 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فروری 2021 تک تحریکِ انصاف کے پاس مناسب امیدوار بھی موجود نہیں تھے، لیکن چند ماہ بعد وہ 36 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آگئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا۔ پہلے سردار عبدالقیوم نیازی وزیراعظم بنے اور بعد ازاں انہی کی جماعت کے ارکان نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں عبدالقیوم نیازی کے خلاف جو الزامات لگائے گئے، وہ کسی مخالف جماعت نے نہیں بلکہ خود تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے تحریری طور پر عائد کیے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں تنویر الیاس وزیراعظم بنے، لیکن ان کے دور میں بھی کوئی نمایاں کارکردگی سامنے نہیں آئی اور آخرکار چوہدری انوار الحق الگ دھڑا بنا کر وزیراعظم بن گئے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کیسے شروع ہوئی؟

شاہ غلام قادر نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کا آغاز بنیادی طور پر آٹے کی قیمتوں اور بجلی کے نرخوں کے مسئلے سے ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں گندم مہنگی ہونے کے باعث آزاد کشمیر میں سبسڈی والے آٹے کے نظام میں بے ضابطگیاں پیدا ہوئیں اور بعض عناصر نے اس صورت حال سے مالی فائدہ اٹھایا۔

مزید پڑھیں:آزاد کشمیر میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلم لیگ ن کے شاہ غلام قادر اپوزیشن لیڈر نامزد

ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز شامل کیے گئے، جس کے باعث صارفین کے بل کئی گنا بڑھ گئے۔

شاہ غلام قادر کے مطابق انہوں نے خود اسمبلی کے فلور پر یہ مسئلہ اٹھایا، کیونکہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی بجلی پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے تھا۔

حکومت کے فیصلوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مقبول بنایا

شاہ غلام قادر نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد آٹے اور بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی 3 روپے فی یونٹ اور آٹا 2 ہزار روپے فی من فراہم کیے جانے کے بعد ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو ایک بڑی کامیابی ملی، جس کے نتیجے میں عوام میں اس کا مثبت تاثر پیدا ہوا۔ ان کے مطابق یہی کامیابی بعد میں کمیٹی کی سیاسی قوت میں اضافے کا سبب بنی۔

 38 مطالبات میں سے 35 پر عملدرآمد ہو چکا ہے

شاہ غلام قادر نے دعویٰ کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عملدرآمد ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ اجلاسوں میں چیف سیکریٹری نے ایک ایک نکتے پر تفصیلی جواب دیا اور متعدد مسائل حل کیے جا چکے ہیں۔

ان کے مطابق ایف آئی آرز کے خاتمے سمیت کئی معاملات میں پیش رفت ہوئی، لیکن اس کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی یہ مؤقف اختیار کر رہی ہے کہ کوئی مطالبہ پورا نہیں کیا گیا۔

مہاجرین کی نشستوں کا تنازع

انٹرویو میں مہاجرینِ جموں کشمیر کی مخصوص نشستوں کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں، جن میں آل پارٹیز کانفرنس، سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے اور معاملے کو مؤخر کر کے مزید مشاورت کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم کانفرنس سے اتحاد کا آپشن موجود، پیپلز پارٹی کو امیدوار ہی نہیں مل رہے،شاہ غلام قادر

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان تمام تجاویز کو مسترد کر دیا اور صرف اپنے مؤقف پر اصرار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گروہ انتخابات میں حصہ لینے، عدالت سے رجوع کرنے یا سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہ ہو تو مسائل کا حل مشکل ہو جاتا ہے۔

راولاکوٹ واقعہ اور سیکیورٹی اہلکاروں کی شہادت

شاہ غلام قادر نے راولاکوٹ میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم ایچ راولاکوٹ پر قبضے کی کوشش کی گئی اور اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ ہوا، جس میں 4 اہلکار شہید ہو گئے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ زخمی اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا، جس کے بعد حالات مزید خراب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے جواب میں ریاستی ردِعمل آنا ایک فطری امر تھا اور کسی بھی معاشرے میں فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے نتائج سامنے آتے ہیں۔

تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں

مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر نے کہا کہ آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے اور یہاں تشدد کے کلچر کو فروغ دینا انتہائی خطرناک ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر معاشرے میں تشدد کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا گیا تو اس کے نتائج پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں مضمر ہے۔

مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے نتائج کیا ہوں گے؟

شاہ غلام قادر نے کہا کہ مہاجرین کی نشستیں صرف ایک انتخابی معاملہ نہیں بلکہ ریاستِ جموں کشمیر کے آئینی اور تاریخی تشخص سے بھی جڑی ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاستِ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور مہاجرین کی نمائندگی اسی ریاستی ڈھانچے کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا گھناؤنا چہرہ بے نقاب، کیا خوفناک مطالبہ کیا گیا تھا؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مہاجرین کی نشستیں ختم کر دی جائیں تو پھر ریاست کے موجودہ آئینی ڈھانچے، صدر، سپریم کورٹ اور دیگر اداروں کی حیثیت کیا رہ جائے گی۔

بیرونی عناصر اور سوشل میڈیا مہم

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال کو بیرونِ ملک بعض حلقے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ راولاکوٹ میں انٹرنیٹ سروسز محدود ہونے کے باوجود بعض عناصر مسلسل آن لائن سرگرم ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ سہولت کون فراہم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت بعض قوتیں آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی کشیدگی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پاکستان سے الحاق کے نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا نظریہ مسئلۂ کشمیر کی بنیاد ہے اور اس سے دستبرداری ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے ساتھ وفاداری اور پاکستان کے ساتھ نظریاتی وابستگی ایک دوسرے کی مخالف چیزیں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کیا ہے اور یہی ان کی سیاسی جدوجہد کا بنیادی محور رہا ہے۔

حکومت کی تبدیلی اور نئی سیاسی صورتحال

شاہ غلام قادر نے کہا کہ چوہدری انوار الحق کی جگہ فیصل ممتاز راٹھور کو وزیراعظم بنانے کا مقصد سیاسی استحکام پیدا کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی مضبوطی ہی ایسے بحرانوں کا مستقل حل ہے اور غیر جماعتی یا وقتی گروہوں کے ذریعے نظام کو مستحکم نہیں بنایا جا سکتا۔

انتخابات ہر حال میں ہوں گے، اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

آزاد کشمیر مسلم لیگ (ن) کے صدر نے واضح کیا کہ آئندہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور ان کے التوا کی کوئی آئینی گنجائش موجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمیشہ آزاد کشمیر کے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، لیکن آزاد کشمیر میں ماضی میں بھی انتخابات وقت پر ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔

مزید پڑھیں:عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار، اسلحہ اور مواصلاتی آلات برآمد،ترجمان پولیس آزاد کشمیر

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیح شفاف، پُرامن اور قابلِ قبول انتخابات کا انعقاد ہے تاکہ کسی جماعت کو نتائج پر اعتراض کا موقع نہ ملے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کو انتخابات میں آنے کی دعوت

شاہ غلام قادر نے کہا کہ اگر عوامی ایکشن کمیٹی واقعی عوامی حمایت رکھتی ہے تو اسے سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر ہو کر انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی فیصلے کا سب سے معتبر ذریعہ بیلٹ بکس ہے اور انتخابات ہی یہ طے کریں گے کہ عوام کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

آزاد کشمیر کے بنیادی مسائل

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کو اس وقت بے روزگاری، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی جماعت کی حکومت بنی تو سرکاری ملازمتوں پر انحصار کم کرنا، معیاری تعلیم کو فروغ دینا اور صحت کے نظام کو مؤثر بنانا ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔

پیپلز پارٹی اور مہاجرین نشستوں کا معاملہ

شاہ غلام قادر نے کہا کہ پیپلز پارٹی ماضی میں مہاجرین کی نشستوں کے ذریعے ہی اقتدار میں آتی رہی ہے اور اس کے متعدد وزرائے اعظم انہی نشستوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر کے عوام نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی

انہوں نے کہا کہ اگر آج کوئی جماعت ان نشستوں پر اعتراض کرتی ہے تو اسے پہلے اپنے تاریخی مؤقف کی وضاحت کرنا ہوگی۔

انہوں نے زور دیا کہ مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر سیاسی مکالمہ ہونا چاہیے، تاہم ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی تجویز کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp