استنبول مذاکرات کا تیسرا دور 18 گھنٹے جاری رہنے کے بعد ناکام، افغان وفد کا مؤقف بار بار تبدیل، بہتر نتائج کے لیے کوششیں جاری

منگل 28 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

استنبول مذاکرات کا تیسرا دور 18 گھنٹے جاری رہنے کے بعد ناکام رہا کیونکہ افغان وفد کا مؤقف کابل سے ہدایات لینے کے بعد بار بار تبدیل ہوتا رہا، اس کے باوجود بہتر نتائج کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق اس طویل دور کے دوران افغان طالبان وفد نے متعدد بار پاکستان کے اس منطقی اور جائز مطالبے سے اتفاق کیا کہ تحریکِ طالبان پاکستان   (TTP) اور دہشتگردی کے خلاف قابلِ اعتماد اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: پاکستانی وفد کے افغان طالبان سے دوحہ میں مذاکرات آج ہوں گے، دفتر خارجہ

ذرائع کے مطابق افغان وفد نے یہ مؤقف میزبان ممالک کی موجودگی میں بھی تسلیم کیا، تاہم ہر بار کابل سے موصول ہونے والی ہدایات کے بعد ان کا مؤقف بدل گیا۔

بات چیت کی ناکامی کی بنیادی وجہ کابل سے موصول ہونے والی وہ غیر منطقی اور غیر قانونی ہدایات قرار دی جا رہی ہیں، جنہوں نے مذاکرات کے عمل کو متاثر کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور میزبان ممالک اس پیچیدہ معاملے کے حل کے لیے نہایت سنجیدہ اور محتاط انداز میں کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: استنبول مذاکرات میں پیشرفت نہ ہو سکی، دہشتگردوں کی سرپرستی منظور نہیں، پاکستان نے افغان طالبان پر واضح کردیا

طالبان کی ہٹ دھرمی کے باوجود ایک آخری کوشش بدستور جاری ہے تاکہ منطق اور مذاکرات کے ذریعے کسی حتمی پیشرفت تک پہنچا جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

 مذاکرات کے پہلے ادوار میں کب کیا ہوا؟

پاک افغان مذاکرات کا آغاز رواں ماہ قطر میں 18 اکتوبر کو ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک نے سرحدی جھڑپوں کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: پاک افغان مذاکرات: کیا بات چیت کا کوئی نتیجہ نکل سکے گا؟

بعدازاں 25 اکتوبر کو استنبول میں دوسرا دور ہوا، جس میں پاکستان نے افغان طالبان سے ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا۔

افغان وفد نے ٹی ٹی پی کو سرحد سے دور منتقل کرنے کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے مسترد کر دیا۔ اگرچہ مذاکرات میں بارہا تعطل آیا، لیکن فریقین نے رابطہ برقرار رکھا۔

ترکیہ اور قطر کے ثالثوں کی موجودگی میں جاری موجودہ (تیسرا) دور، کشیدگی کم کرنے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے آخری موقع تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں