امریکا کی ریاست ورجینیا میں ایک ریکون شراب کی دکان میں گھس گیا اور بھاری مقدار میں شراب چٹ کرگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی جیلوں میں خطرناک مجرموں کی شراب پارٹیوں نے حکومتی رٹ کا بھرم کھول دیا
شراب کی بوتلوں تک رسائی ملنے کے بعد اس نے خوب توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی اور کئی بوتلیں چڑھا بھی گیا جس کے بعد اس کو خود کا ہوش نہیں رہا۔
ریکون کی وہ کارگزاری اس وقت سامنے آئی جب دکان کا ملازم دکان میں داخل ہوا اور اس نے ریکون کو ٹوائلٹ کے قریب منہ کے بل بے ہوش پڑا پایا۔
بوتلوں، شیلف اور ڈبوں کی شامت
ہینور کاؤنٹی اینیمل پروٹیکشن اینڈ شیلٹر کے مطابق ریکون نے بے ہوش ہونے سے پہلے دکان میں جگہ جگہ تباہی مچا دی۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد میں شراب فروخت کرنے کی اجازت، مگر کن شرائط پر؟
ریپورٹ کے مطابق جانور نے شراب کی 14 بوتلیں توڑ دیں جن کی مالیت تقریباً 250 ڈالر بتائی گئی جب کہ شیلف بکھر گئے اور کئی ڈبے الٹ پلٹ گئے۔
صفائی کے بعد دکان معمول کے مطابق کھول دی گئی۔
چھت توڑ کر اندر داخل ہوا
شیلٹر کی افسر سمانتھا مارٹن نے بتایا کہ وہ ریکون کی مداح ہیں اور انہیں یہ واقعہ خاصا مزاحیہ لگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ چھت کی ٹائل توڑ کر اندر گرا اور پھر پورے زور و شور سے شراب پینی شروع کر دی۔
’ہینگ اوور‘ کے بعد جنگل میں رہائی
محکمے نے واقعے پر ہلکے پھلکے انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریکون شاید اب بھی ہینگ اوور کا شکار ہو۔
مزید پڑھیں: شمالی یورپ: شراب نوشی میں کمی، وجہ کیا ہے؟
بیان میں مزید کہا گیا کہ ریکون کچھ گھنٹے سویا اور اس کے جسم پر کسی چوٹ کے آثار نہیں ملے۔ وہ صرف ہینگ اوور کا شکار ہوا۔ اس کو بحفاظت جنگل میں چھوڑ دیا گیا۔ واضح رہے کہ ہینگ اوور سے مراد وہ ناگوار حالت ہے جو زیادہ شراب پینے کے بعد اگلے دن سر درد، متلی، کمزوری اور بے چینی کی صورت میں محسوس ہوتی ہے۔
تصاویر وائرل، سوشل میڈیا پر ہنسی کا طوفان
حکام نے واقعے کی تصاویر جاری کیں جن میں ریکون کو کوڑے دان اور ٹوائلٹ کے پاس گہری نیند میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور تصویر میں دکان کا ایک حصہ ٹوٹی ہوئی بوتلوں سے بھرا ہوا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے مزاحیہ تبصرے
ایک صارف نے کہا کہ اسے چھوڑ دیں، کچرا چننے کے ایک تھکا دینے والے دن کے بعد آرام کر رہا ہے۔
کسی نے کہا کہ پہلے لگا یہ خبر جھوٹی ہے مگر تصویر دیکھ کر یقین آگیا۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت پنجاب نے صوبے میں شراب کی طلب پوری کرنیکا تقاضا کیوں کیا؟
ایک صارف نے کہا کہ ایسے مزے شاید اسے زندگی میں دوبارہ نہ ملیں۔














