ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیوب اب بھی نوعمر صارفین کو کھانے کی خطرناک عادات (ایٹنگ ڈس آرڈر) سے متعلق نقصان دہ ویڈیوز تجویز کر رہا ہے حالانکہ ایسے مواد کی روک تھام کے لیے ایک سال قبل نئے ضوابط نافذ کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں یوٹیوب الگورتھم تبدیل کرنے کی تجویز، آزادیٔ اظہار پر بحث چھڑ گئی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ (CCDH) کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ ادارے نے برطانیہ میں ایک 13 سالہ بچی کا فرضی اکاؤنٹ بنایا اور اسے پہلی بار ڈائٹنگ اور جسمانی ساخت سے متعلق مواد دیکھنے والے صارف کی طرح استعمال کیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ یوٹیوب کے ’اپ نیکسٹ‘ الگورتھم کی جانب سے تجویز کی جانے والی ہر 10 میں سے ایک ویڈیو میں انتہائی دبلا پن، انتہائی کم کیلوریز والی غذائیں یا دیگر نقصان دہ مواد شامل تھا اگرچہ 2 سال پہلے کے مقابلے میں صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔
دوسری جانب گوگل جو یوٹیوب کی مالک کمپنی ہے کا کہنا ہے کہ نقصان دہ مواد کی روک تھام اس کی اولین ترجیح ہے اور تحقیق میں جن ویڈیوز کی نشاندہی کی گئی تھی انہیں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ہٹا دیا گیا ہے۔
یہ تحقیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی ریگولیٹری ادارے آف کام نے بھی کہا ہے کہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک بچوں اور نوعمر افراد کو محفوظ رکھنے کے لیے اب بھی کافی اقدامات نہیں کر رہے اور مزید سخت حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیے: یوٹیوب نے نیا زبردست فیچر متعارف کروا دیا
برطانیہ میں آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت جولائی 2025 سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قانونی ذمہ داری عائد کی گئی تھی کہ وہ 18 سال سے کم عمر صارفین کو خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے اور کھانے کی خطرناک عادات کی حوصلہ افزائی کرنے والے مواد سے محفوظ رکھیں۔ قانون کے مطابق کمپنیوں کو یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ان کے الگورتھمز نوجوانوں کو نقصان دہ مواد کی طرف نہ دھکیلیں، بصورت دیگر انہیں اپنی عالمی آمدنی کا 10 فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
‘معصوم انداز میں آغاز ہوا اور پھر حالات بگڑتے گئے’
برطانیہ کے شہر لیسٹر سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ جازمن کور نے بتایا کہ انہیں 13 برس کی عمر میں اینوریکسیا کی تشخیص ہوئی تھی اور اگلے 6 برس تک انہیں برطانوی قومی صحت کے ادارے سے علاج کرانا پڑا۔
ان کے مطابق ابتدا میں وہ صرف صحت مند اور فٹ ہونا چاہتی تھیں لیکن سوشل میڈیا پر دیکھے گئے مواد نے رفتہ رفتہ ان کی ذہنی کیفیت مزید خراب کر دی۔
مزید پڑھیں : یوٹیوب نے نوعمر بچوں کے سوشل میڈیا ایڈکشن کیس میں عدالت سے باہر تصفیہ کرلیا
جازمن کا کہنا تھا کہ اسپتال سے واپسی کے بعد وہ مسلسل موبائل فون استعمال کرتی تھیں اور وقت گزرنے کے ساتھ انہیں انتہائی خطرناک مواد دکھایا جانے لگا جس نے ان کی کمزور ذہنی کیفیت کو مزید متاثر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے یونیورسٹی کے دوران اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے۔ وہ اس وقت بچوں کی نرسنگ میں ماسٹرز کر رہی ہیں اور ہفتے کے اختتام پر ذہنی صحت کے ایک مرکز میں بھی خدمات انجام دیتی ہیں۔
تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
سی سی ڈی ایچ نے 13 سالہ بچی کے فرضی اکاؤنٹ سے ڈائٹنگ اور جسمانی ساخت سے متعلق 10 ویڈیوز دیکھیں، جس کے بعد یوٹیوب کی جانب سے تجویز کی گئی اگلی 100 ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق کے مطابق 2026 میں ہر 10 میں سے ایک تجویز کردہ ویڈیو نقصان دہ ایٹنگ ڈس آرڈر مواد پر مشتمل تھی جبکہ سنہ 2024 میں یہی شرح 47 میں سے ایک تھی۔
یہ بھی پڑھیے: یوٹیوب دیکھ کر جعلی نوٹ بنانے والا جوڑا گرفتار
یہی تجربہ امریکا اور یورپی یونین کے فرضی نوعمر اکاؤنٹس پر بھی دہرایا گیا جہاں تقریباً اسی نوعیت کے نتائج سامنے آئے۔
ماہرین: ایک نقصان دہ ویڈیو بھی بہت زیادہ ہے
سی سی ڈی ایچ کی سینیئر ریسرچ مینیجر الیگزینڈرا جانسن نے کہا کہ اگرچہ ضوابط نافذ ہونے کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم ایک بھی نقصان دہ ویڈیو بہت زیادہ ہے خاص طور پر ایسے کم عمر اور حساس صارفین کے لیے جنہیں صرف ایک الگورتھمک سفارش بھی خطرناک راستے پر ڈال سکتی ہے۔
تحقیق میں سامنے آنے والے مواد میں انتہائی دبلا پن کو مثالی قرار دینے والی ویڈیوز، روزانہ صرف 170 کیلوریز پر مشتمل غذا کی تشہیر اور وزن کم کرنے کے نام پر گمراہ کن دعوے شامل تھے۔
مزید پڑھیں: یوٹیوب پریمیم کے نئے اے آئی فیچرز، کیا پوڈکاسٹ کا مستقبل بدلنے جا رہا ہے؟
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یوٹیوب کی جانب سے حساس موضوعات پر دکھائے جانے والے کرائسس پینلز (مدد فراہم کرنے والے معلوماتی پیغامات) ان نقصان دہ ویڈیوز پر نظر نہیں آئے حالانکہ دیگر کم خطرناک ڈائٹنگ ویڈیوز پر یہ وارننگز موجود تھیں۔
یوٹیوب کا مؤقف
گوگل کا کہنا ہے کہ یوٹیوب ایسی ویڈیوز کی اجازت نہیں دیتا جو کھانے کی خطرناک عادات کی حوصلہ افزائی کریں یا ان کے طریقے سکھائیں تاہم صحتیابی سے متعلق ذاتی تجربات شیئر کرنے والے مواد کی اجازت دی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ این ایچ ایس، مائنڈ اور دیگر ماہر اداروں کے ساتھ مل کر نوجوانوں کی ذہنی صحت کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔ اسی مقصد کے لیے یوٹیوب نے ماہرین کی تیار کردہ خصوصی ویڈیوز بھی متعارف کرائی ہیں جو نوعمر صارفین کی جانب سے ڈپریشن یا ایٹنگ ڈس آرڈر جیسے موضوعات تلاش کرنے پر دکھائی جاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور ایٹنگ ڈس آرڈر کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے۔ ایک طرف مثبت اور معاون آن لائن کمیونٹیز تنہائی کا احساس کم کر سکتی ہیں لیکن دوسری طرف نقصان دہ مواد بھی نوجوانوں کی ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹک ٹاک اور یوٹیوب کریئیٹرز کو ماہانہ 3 ہزار ڈالر دینے کا اعلان
برطانوی خیراتی ادارے بیٹ کے مطابق ان سے رابطہ کرنے والے تقریباً 90 فیصد افراد نے بتایا کہ انہیں سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی مرحلے پر نقصان دہ مواد کا سامنا کرنا پڑا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صارفین غیر ضروری مواد کو ’ناٹ انٹریسٹڈ‘ کے ذریعے مسترد کریں اور نقصان دہ اکاؤنٹس کو بلاک یا رپورٹ کریں تاہم بنیادی ذمہ داری سوشل میڈیا کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارمز کو محفوظ بنائیں۔














