فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا، جو کھلاڑیوں کو سیاسی پیغامات پر اکثر جرمانے اور پابندیاں عائد کرتی رہی ہے، اپنے ہی دعوے سے ہٹتی دکھائی دے رہی ہے۔
فیفا کے صدر جانی انفانتینو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پہلا ’فیفا امن ایوارڈ‘ پیش کیا، جس پر عالمی سطح پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: فیفا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن ایوارڈ سے نواز دیا
تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ ایسے وقت دیا گیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے محض 24 گھنٹے قبل کیریبین میں ایک اور مہلک فضائی حملہ کیا تھا۔ سابق اقوامِ متحدہ اہلکار اور انسانی حقوق کے سرگرم رہنما کریگ موخیبر نے اس اقدام کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیفا کی قیادت نے اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کے بعد اب ٹرمپ کے حق میں ایک نیا ایوارڈ تراش لیا ہے۔
ایوارڈ پیش کرتے ہوئے انفانتینو نے ٹرمپ کی بین الاقوامی پالیسیوں، خصوصاً ابراہام معاہدوں کی تعریف کی اور کہا کہ دنیا کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو لوگوں کی فلاح چاہتے ہوں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے اسے اپنی بڑی عزت قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے لاکھوں جانیں بچائیں اور 8 جنگوں کا خاتمہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی متنازع پالیسیوں سے فیفا ورلڈ کپ 2026 کی میزبانی مشکل میں پڑ گئی
مبصرین کے مطابق یہ اقدام فیفا کے اپنے سابقہ بیانیے سے مکمل انحراف ہے، جس میں سازمان بارہا کھیل کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کرتی رہی ہے۔ ناقدین نے یاد دلایا کہ اسی صدر نے حال ہی میں صومالیہ کے لوگوں کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔














