سعودی عرب، ایران اور چین نے منگل کے روز تہران میں ہونے والے اجلاس کے دوران بیجنگ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے پاک سعودی دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش ظاہر کردی
بیجنگ معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے سعودی چینی ایرانی مشترکہ سہ فریقی کمیٹی کے تیسرے اجلاس کی صدارت ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے کی جبکہ سعودی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی اور چینی وفد کی قیادت نائب وزیر خارجہ میاؤ دی یُو نے کی۔
سعودی اور ایرانی وفود نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ بیجنگ معاہدے پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے اور اچھے ہمسائیگی کے تعلقات مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے چارٹر، اسلامی تعاون تنظیم کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پابندی پر زور دیا گیا۔
سعودی عرب اور ایران نے معاہدے کے نفاذ میں چین کے تعمیری کردار اور مسلسل تعاون کا خیرمقدم کیا۔ چین نے بھی ریاض اور تہران کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، خطے میں امن و استحکام پر گفتگو
تینوں ممالک نے سعودی۔ایران تعلقات میں بتدریج پیش؎رفت اور اس سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کا اعتراف کیا۔
اجلاس میں قونصلر خدمات میں ہونے والی پیشرفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا جس کے باعث سنہ 2025 میں 85,000 سے زائد ایرانی عازمین نے حج اور 210,000 سے زائد افراد نے عمرہ انتہائی سہولت اور تحفظ کے ساتھ ادا کیا۔
تینوں ممالک نے اقتصادی اور سیاسی شعبوں سمیت مختلف میدانوں میں تعاون کو وسعت دینے کے ارادے کا اظہار کیا اور زور دیا کہ علاقائی مکالمہ اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: قطر پر اسرائیلی حملہ: پاکستان، سعودی عرب اور ایران کی شدید مذمت
اجلاس میں فلسطین، لبنان اور شام میں اسرائیلی جارحیت کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا اور ایران کی علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی اقدام کی مذمت کی گئی۔
ایران نے اس حوالے سے سعودی عرب اور چین کے واضح مؤقف کو سراہا ہے۔













