سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی (NCM) نے ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں اور طوفانی ہواؤں کی پیشگوئی کی ہے۔ حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ نچلے اور سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں جانے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
شدید بارش اور ممکنہ سیلاب
موسمیاتی مرکز کے مطابق اتوار کو کئی صوبوں میں درمیانے سے شدید طوفانی بارشیں متوقع ہیں، جن کے ساتھ اولے اور فعال ہوائیں بھی چلیں گی جو گرد و غبار پیدا کر سکتی ہیں۔

متاثرہ صوبوں میں ریاض، قاسم، حائل، مدینہ، مکہ، الباحہ، عسیر، جازان اور مشرقی صوبے کے کچھ حصے شامل ہیں۔ شمالی سرحدیں، الجوف اور تبوک میں ہلکی تا درمیانی بارشیں متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جدہ میں 2022 کے بعد سب سے زیادہ بارش ریکارڈ
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سول ڈیفنس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ کم از کم 18 دسمبر تک سیلابی علاقوں اور وادیوں میں جانے سے گریز کریں۔
بارش کے بعد قدرتی مناظر کا حسن
گزشتہ چند دنوں میں سعودی عرب کے مختلف حصوں میں ہلکی تا درمیانی بارش ہوئی، جس سے صحراؤں اور وادیوں میں زندگی دوبارہ جاگی۔ شمالی سرحدوں میں ال-نفود صحرا کی ریت اب سنہری ٹیلوں کی بجائے خوبصورت جھیلوں اور ندیوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔

ایمام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو، ملک کے دوسرے بڑے قدرتی ریزرو میں بھی بارش نے سبزہ اگا آیا اور ندیوں کو دوبارہ بھر دیا۔ وادی ارار میں پانی بہنے سے شمالی سرحدوں کے 11 فعال ڈیم بھر گئے ہیں۔
جنوب مغرب کے صوبے عسیر میں ابھا شہر اور پہاڑی چوٹیوں پر دھند نے خوبصورت سردیوں کے مناظر پیدا کیے، جو قدرتی مناظر دیکھنے اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے پرکشش ہیں۔

نجراں صوبے میں بارشوں نے وادیوں اور ندیوں کو دوبارہ زندگی بخشی۔ وادی مغیدید، جو سراوت رینج کے ماغرا پہاڑوں میں واقع ہے، ہائیکنگ اور فطرت کے شوقین افراد کے لیے اہم مرکز بن گئی ہے۔ وادی 25 کلومیٹر تک محیط ہے اور اس کا منفرد جغرافیہ سرسبز میدانوں اور بلند پہاڑوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔












