امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

منگل 12 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اب ایک نازک صورتحال میں داخل ہوگئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قیامِ امن کے حوالے سے ایرانی تجاویز مسترد کردی ہیں۔

ایرانی وزراتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران صرف اپنے حقوق کا تحفظ چاہتا ہے جس کے لیے امریکا کو ذمے دارانہ اور فراخدلانہ تجاویز پیش کی ہیں۔

مزید پڑھیں: معاہدے تک ایران پر دباؤ برقرار رہے گا، ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی بحالی پر غور کررہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران نے پاکستان کے ذریعے ایک جواب امریکا کو بھجوایا جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور بعد کے مرحلے میں وسیع مذاکرات کی بات شامل تھی، لیکن امریکی ردعمل میں کہا گیا کہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے یا محدود جنگ بندی کی یقین دہانی کافی نہیں، واشنگٹن ایک ’جامع فریم ورک‘ چاہتا ہے جس میں جوہری پروگرام اور سیکیورٹی معاملات بھی شامل ہوں۔

بین الاقوامی تجزیہ نگار اِس صورتحال کو مخدوش اور نازک قرار دے رہے ہیں۔ ایرانی نژاد امریکی تجزیہ کار ولی نصر کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے کیونکہ تہران کو شبہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سفارت کاری میں سنجیدہ نہیں بلکہ امن مذاکرات کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے ایک پردہ بنا رہے ہیں۔

اسی تناظر میں لنکاسٹر یونیورسٹی میں مشرقِ وسطیٰ کی بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر سائمن میبن کہتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی نازک مرحلہ ہے، ہر طرف دباؤ بڑھ رہا ہے اور کسی بڑی پیش رفت کی فوری ضرورت ہے، جبکہ سابق امریکی سفارت کار اور تجزیہ کار رچرڈ ہاس کے مطابق اگرچہ روایتی جنگی پیمانوں کے لحاظ سے ایران کو نقصان ہوا، لیکن حکمتِ عملی کے اعتبار سے وہ ایک اسٹریٹجک کامیابی حاصل کرنے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے لیے معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔

’اگر یہ پوچھا جائے کہ کیا امریکا پانچ ہفتے پہلے کے مقابلے میں آج بہتر پوزیشن میں ہے؟ تو میرا جواب واضح طور پر ’نہیں‘ ہوگا۔‘

بات چیت اور جنگ دونوں کے امکانات یکساں ہیں: ملک ایوب سنبل

بیجنگ میں چینی میڈیا سے وابستہ جیو پولیٹکل تجزیہ نگار ملک ایوب سنبل کہتے ہیں کہ ایران امریکا مذاکرات میں جتنا اِمکان جنگ کا ہے اُتنا ہی مذاکرات کا بھی ہے۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا اِمکان اِس لیے قدرے زیادہ ہے کیونکہ صدر ٹرمپ کو اس جنگ سے بہت زیادہ سیاسی نقصان پہنچا ہے جس کی وہ تلافی کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کے امریکا کے ساتھ بیک چینل براہِ راست تعلقات بھی ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

ملک ایوب نے کہاکہ امریکا اس وقت ایران پر بیک وقت فوجی دباؤ اور مذاکرات دونوں قسم کی حکمت عملی استعمال کررہا ہے لیکن اگر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت ناکام ہوتی ہے تو جنگ میں شدّت آئے گی۔

14 اور 15 مئی کو صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا یہ دورہ امریکا اور چین کے دوطرفہ معاملات کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ اِس میں دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ مسائل جیسا کہ باہمی تجارت اور تائیوان کے مسئلے کے حوالے سے ممکنہ طور پر کوئی اعلامیہ آ سکتا ہے تاہم ایران کی صورتحال کے حوالے سے بھی یقیناً اس دورے کے دوران بات چیت ہو گی۔

چین میں امریکی سفیر عبدالرضا فاضلی کا ایک بیان کہ ایران اور امریکا کے درمیان مستقبل کے معاہدوں کے حوالے سے بیجنگ ایک ضامن بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے ملک ایوب سنبل نے کہا کہ چین کوئی بڑی ضمانت نہیں دے سکتا اور پھر صدر ٹرمپ کا جو طرزِ عمل ہے اُس کی ضمانت تو خود وہ یعنی صدر ٹرمپ بھی نہیں دے سکتے۔

آبنائے ہرمز کا معاملہ پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے، سفارتکار مسعود خالد

پاکستان کے سابق سفیر مسعود خالد نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا جلد امکان موجود ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے ساری دنیا کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب جبکہ صدر ٹرمپ نے ایرانی تجاویز کو مسترد کیا ہے تو عالمی دباؤ میں اضافہ ہوگا کہ کسی طرح سے بات چیت کرکے آبنائے ہرمز کو کھولا جائے۔

سفارتکار مسعود خالد نے کہاکہ ایران کی یہ بات ٹھیک ہے فرسٹ تھنگ فرسٹ کیا جانا چاہیے، آبنائے ہرمز ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے، باقی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تو پہلے بھی بات چیت ہوئی تھی اور اب بھی ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کا آغاز ہونے جا رہا ہے؟

’اس معاملے میں دو رکاوٹیں ہیں ایک تو صدر ٹرمپ کا غیر متوقع رویہ اور دوسرا ایران بھی اب اس معاملے میں اپنی لیوریج کا استعمال کرتے ہوئے قدرے سخت مؤقف پر اڑا ہوا ہے۔‘

مسعود خالد نے کہاکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ بیان کے ایرانی تجاویز مسترد کردی گئی ہیں، پریشر بڑھانے کا حربہ ہو سکتا ہے جو امریکیوں کا وطیرہ ہے لیکن 24 گھنٹے کے اندر یہ بیان بدل بھی سکتا ہے کیونکہ صدر ٹرمپ غیر متوقع فیصلے لیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp