دنیا بھر کے شہروں کے زیر زمین سیوریج نظام میں چکنائی، تیل، گندگی اور مختلف فضلے کے جمع ہونے سے کھڑی ہونے والی خوفناک رکاوٹیں ’فیٹ برگ‘ تیزی سے ایک بڑا مسئلہ بنتے جا رہی ہیں جبکہ سائنسدان اب مصنوعی ذہانت اور جدید روبوٹس کی مدد سے اس خطرے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واسا پنجاب سیوریج فلیٹ فیز ون کا افتتاح، 15 اضلاع کو مطلوبہ گاڑیاں اور مشینری کی فراہمی
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لندن کی وائٹ چیپل روڈ کے نیچے سنہ 2017 میں دریافت ہونے والا ایک دیوہیکل فیٹ برگ دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔ اس کا وزن 130 ٹن سے زیادہ تھا یعنی لندن کی 11 ڈبل ڈیکر بسوں کے برابر۔ یہ خوفناک رکاوٹ وکٹورین دور کے پرانے سیوریج نظام میں خاموشی سے بڑھتی رہی یہاں تک کہ معمول کے معائنے کے دوران کارکن اس سے جا ٹکرائے۔
ماہرین کے مطابق یہ بدبودار مادہ چکنائی، تیل، ویٹ وائپس، سینیٹری مصنوعات، کنڈومز اور دیگر فضلے کے ملاپ سے بنتا ہے اور وقت کے ساتھ کنکریٹ کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیے: کچرے میں پھینکے جانے والی ای سگریٹس سے آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ
برطانیہ کی واٹر کمپنی ’سدرن واٹر‘ کے ماہر رچرڈ مارٹن نے اسے جادوئی مگر خطرناک مرکب قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ مادہ نہایت تیزی سے جم جاتا ہے اور سیوریج لائنوں کو مکمل طور پر بند کر سکتا ہے۔
یہ رکاوٹیں نہ صرف گندے پانی کے اخراج اور سڑکوں پر سیلاب کا سبب بنتی ہیں بلکہ دریاؤں اور ماحول کو بھی شدید آلودہ کرتی ہیں۔ بعض اوقات گھروں اور دکانوں میں بھی سیوریج کا پانی واپس بھر جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صرف برطانیہ میں ہر سال تقریباً 3 لاکھ فیٹ برگ صاف کیے جاتے ہیں جبکہ نیویارک شہر ان رکاوٹوں کو ختم کرنے پر سالانہ تقریباً ایک کروڑ 88 لاکھ ڈالر خرچ کرتا ہے۔
امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھی دیوہیکل فیٹ برگ سامنے آ چکے ہیں۔ سنہ 2021 میں برمنگھم میں دریافت ہونے والا ایک فیٹ برگ ایک کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا جبکہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک بڑا فیٹ برگ ساحلوں تک بدبودار ’پو بالز‘ پھینکنے کا سبب بنا۔
مزید پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج ان رکاوٹوں کو بروقت تلاش کرنا ہے کیونکہ یہ زمین کے نیچے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے اب مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ برطانیہ میں سدرن واٹر نے اپنے سیوریج نظام میں 34 ہزار سینسر نصب کیے ہیں جو پانی کی سطح اور بہاؤ پر مسلسل نظر رکھتے ہیں۔
یہ سینسر مشین لرننگ نظام کے ذریعے بارش، موسم اور پانی کے بہاؤ کا تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ابتدائی مرحلے میں ہی رکاوٹ کی نشاندہی کی جا سکے۔
رچرڈ مارٹن کے مطابق اگر نظام معمول سے ہٹتا ہے تو ہم فوراً کارروائی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پولن اور موسمی الرجی سے نمٹنے کے مؤثر طریقے
انہوں نے بتایا کہ رواں سال مصنوعی ذہانت کی مدد سے 700 رکاوٹیں بروقت صاف کی جا چکی ہیں۔
ماہرین نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کافی شاپس سے نالیوں میں بہایا جانے والا دودھ بھی فیٹ برگ بننے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
لینکاسٹر یونیورسٹی کی انجینیئرنگ ماہر رافیلا ویلا کے مطابق کافی شاپس میں گرم پانی، دودھ اور چکنائی کا ملاپ پنیر بننے جیسے کیمیائی عمل پیدا کرتا ہے جو سیوریج میں جا کر فیٹ برگ کی تشکیل میں مددگار ہو سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وائٹ چیپل سے نکالا گیا فیٹ برگ اتنا مشہور ہوا کہ اس کے کچھ حصے لندن کے میوزیم میں نمائش کے لیے رکھ دیے گئے۔
اب ماہرین ایسے جدید روبوٹس بھی تیار کر رہے ہیں جو سیوریج لائنوں میں جا کر خودکار انداز میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور صفائی کر سکیں گے۔
یورپی یونین کے تعاون سے ’ٹارڈی گریڈ‘ نامی ایک روبوٹ تیار کیا جا رہا ہے جس میں کیمرے، لائیڈار، صوتی سینسر اور مصنوعی ذہانت نصب ہوگی۔
یونیورسٹی آف شیفیلڈ کی پروفیسر لیوڈمیلا میہائیلووا کے مطابق یہ روبوٹ نہ صرف رکاوٹیں تلاش کر سکے گا بلکہ مستقبل میں انہیں خود ہی ہٹانے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔
مزید پڑھیں: بدبو خطرے سے آگاہی کا سگنل، اس کا عادی ہوجانا انتہائی مضر صحت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ سیوریج میں کام کرنے والے افراد کو خطرناک گیسوں، بیکٹیریا اور آلودہ ماحول سے بھی محفوظ رکھا جا سکے گا۔














