تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کر گئیں، امریکی ثالثی بے اثر

اتوار 14 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

جنوب مشرقی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جاری سرحدی تنازع نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپیں دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا ایک مہینے میں دوسری بار تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں جنگ بندی کا اعلان

تھائی لینڈ کی فوج نے کمبوڈیا کے خلاف نیا فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر ’خود مختار علاقے کی واپسی‘ بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے دعوے کیے گئے، تاہم تھائی فوج نے واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی سیز فائر پر نہ تو اتفاق ہوا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی منصوبہ موجود ہے۔

کمبوڈیا نے صورتحال کے پیش نظر تھائی لینڈ کے ساتھ اپنی تمام سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی جڑ ایک طویل عرصے سے چلا آ رہا سرحدی اختلاف ہے، جو نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی 800 کلومیٹر طویل سرحد کی متنازع حد بندی سے متعلق ہے۔

اب تک ہونے والی لڑائی میں کم از کم 25 فوجی اور شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں جانب سے 5 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تھائی فوج کے مطابق کمبوڈین فورسز کی جانب سے بھاری ہتھیاروں، بی ایم 21 راکٹ لانچرز اور خودکش ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جسے قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔

تھائی فوجی ترجمان میجر جنرل ونتھائی سووارے نے کہا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کمبوڈیا سرحدی علاقوں میں حملے بند نہیں کرتا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری آبادی اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر خاموشی ممکن نہیں۔

دوسری جانب سرحدی علاقوں میں تعینات صحافیوں کے مطابق صورتحال نہایت کشیدہ ہے۔ سیساکیت اور سورین صوبوں میں واقع متنازع مندروں کے قریب شدید فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات ہیں، جہاں دونوں ممالک کی افواج آمنے سامنے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کوششوں کے باوجود جنگ بندی فوری طور پر ممکن نظر نہیں آتی، کیونکہ دونوں ممالک کی قیادت اس وقت تک پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں جب تک وہ اپنی خودمختاری کو مکمل طور پر محفوظ نہ سمجھ لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟