وفاقی سیکریٹری مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹر سید عطا الرحمن نے وزارتِ مذہبی امور میں یونیسیف اور اسلامک ریلیف پاکستان کے زیرِ اشتراک بین المذاہب رہنماوں سے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ اطفال کی آگہی کی کوششوں میں مذہبی رہنماوں کی شمولیت سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوں گے۔
مزید پڑھیں: بچوں کے اغوا کیخلاف ازخود نوٹس کیس: سپریم کورٹ نے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کے نمائندے کو طلب کرلیا
اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی، کنٹری ہیڈ اسلامک ریلیف پاکستان آصف شیرازی، علامہ عارف حسین واحدی، مفتی ضمیر احمد ساجد، علامہ سجاد حسین نقوی، مولانا ہارون الرشید بالا کوٹی، پیر عظمت سلطان، حافظ محمد اقبال نعیمی، کرسٹوفر شرف، پنڈت راکیش چند، ہما عارف، اور دیگر ماہرین اطفال و نمائندگان شریک ہوئے۔
Islamabad:
The inclusion of religious leaders in efforts to raise awareness about child protection can yield meaningful and lasting results, said Federal Secretary for Religious Affairs and Interfaith Harmony Dr Syed Ata ur Rehman on Tuesday.@khurram143 pic.twitter.com/XXZ9OMcLWX— Media Talk (@mediatalk922) December 17, 2025
سیکریٹری مذہبی امور نے تحفظ اطفال فورم کے ذریعے حاصل ہونے والے تجاویز کو سراہا اور کہا کہ معاشرے میں مثبت تبدیلی مذہبی طبقوں کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اور اصلاح معاشرہ کی کوشش کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ زینب کیس کے بعد بچوں پر جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد کے انسداد اور قانون سازی کے حوالے سے کونسل نے متعدد سفارشات جاری کی ہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی یومِ اطفال 2025: صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا بچوں کے حقوق کے تحفظ اور معیاری تعلیم کی فراہمی پر زور
اجلاس میں بچوں کی تعلیم و تربیت، تحفظ، جذباتی و ذہنی نشونما کے لیے والدین اور اساتذہ کی آگاہی، بچوں کی مشقت، اور کم عمری کی شادیوں کے محرکات پر بات کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔














