کولیسٹرول ایک موم جیسا مادہ ہے جو ہمارے خون میں پایا جاتا ہے اور جسم کے لیے ضروری ہے۔ لیکن برا کولیسٹرول (LDL) زیادہ ہونے پر یہ شریانوں میں جمع ہو کر دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور اسٹروک کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف خون کے ٹیسٹ سے جان پاتے ہیں کیونکہ اس کے واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔
اسٹاٹنز (Statins) وہ دوائیں ہیں جو جگر میں انزائم کو بلاک کرکے LDL کولیسٹرول کم کرتی ہیں اور شریانوں میں رکاوٹ کے خطرے کو گھٹاتی ہیں۔ لیکن بعض اوقات اسٹاٹنز کے باوجود کولیسٹرول کم نہیں ہوتا۔ طبی ماہرین کے مطابق اس کی 2 بڑی وجوہات ہیں:
زیادہ کاربوہائیڈریٹس کا استعمال
نہ صرف شکر بلکہ زیادہ چاول، روٹی اور دیگر اناج بھی مسئلہ بن سکتے ہیں۔ زیادہ کارب کھانے سے جسم انسولین پیدا کرتا ہے، جو دوبارہ وہ انزائم فعال کر دیتی ہے جسے اسٹاٹنز روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور جگر مزید کولیسٹرول بنانا شروع کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: ’ bad کولیسٹرول‘ جو ڈیمنشیا اور الزائمر کی بیماری سے بچاتا ہے
قدیمی سوزش(Chronic Inflammation)
مسلسل سوزش جگر کو مزید کولیسٹرول پیدا کرنے پر مجبور کرتی ہے، جس سے کولیسٹرول کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مشورے:
کارب کی مقدار کم کریں، نہ صرف شکر بلکہ زیادہ چاول، روٹی اور اناج بھی محدود کریں۔ صحت مند غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ ورزش سے سوزش کو کم کریں۔ صرف دوا پر انحصار نہ کریں، بلکہ بنیادی وجوہات کا علاج کریں۔
نوٹ: یہ معلومات عمومی رہنمائی کے لیے ہیں اور کسی ماہرِ صحت کی رائے کا نعم البدل نہیں۔ ہمیشہ اپنے ڈاکٹر یا اسپیشلسٹ سے مشورہ کریں۔














