طالبان دور میں کابل کے ثقافتی ورثے کو ایک اور دھچکا، تاریخی سنیما مسمار

جمعہ 19 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کابل کا ایک معروف سنیما، جو دہائیوں تک شہر کے فلم شائقین کی توجہ کا مرکز رہا، خریداری مرکز (شاپنگ مال) کی تعمیر کے لیے منہدم کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں نے جمعرات کے روز اس مقام پر انہدام کے مناظر دیکھے۔

1960 کی دہائی میں تعمیر ہونے والا آریانا سنیما افغانستان کی خانہ جنگی (1992–1996) کے دوران لوٹ مار اور تباہی کا شکار ہوا تھا۔ بعد ازاں فرانسیسی قیادت میں بحالی کے منصوبے کے تحت اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور یہ سنیما 2004 میں دوبارہ کھولا گیا۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان: ماہ رمضان میں موسیقی بجانے پر خواتین کا واحد ریڈیو اسٹیشن بند کر دیا گیا

تاہم 2021 میں طالبان کی واپسی اور اسلامی قانون کی سخت تشریح کے تحت فلموں، موسیقی اور دیگر تفریحی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد اس سنیما میں کبھی کبھار صرف تبلیغی (پروپیگنڈا) فلمیں دکھائی گئیں، جس کے بعد اسے مستقل طور پر بند کر دیا گیا۔

جمعرات کے روز ایک بلڈوزر نے ملبے کے ڈھیر کے درمیان سنیما کی دیواریں گرا دیں۔ مقام پر آویزاں ایک بینر پر لکھا تھا کہ یہاں ایک جدید اور معیاری مارکیٹ  تعمیر کی جائے گی۔

کابل کی 65 سالہ رہائشی خاتون، جنہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، نے کہا کہ آریانا سنیما کی مسماری کی خبر نے میرا دل توڑ دیا۔ ہماری اس سنیما سے بہت سی خوبصورت یادیں جڑی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے  افغان موسیقار خان آغا پاکستان میں پناہ کیوں چاہتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ 1970 کی دہائی میں یہاں ابتدا میں بھارتی اور ایرانی فلمیں دکھائی جاتی تھیں، بعد ازاں روسی، انگریزی، فرانسیسی اور دیگر یورپی فلمیں بھی نمائش کے لیے پیش کی جانے لگیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں انقلابی فلمیں بھی دکھائی جاتی تھیں، ایسی فلمیں جو عوام کی جدوجہد کو اجاگر کرتی تھیں، اور لوگ انہیں بے حد شوق اور جذبے کے ساتھ دیکھتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟