وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی ایک ویڈیو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی، جس میں وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ایک نامعلوم شخص وہاں آیا اور چیختے ہوئے کہا ’بند کرو اسے‘، جس کے فوراً بعد ویڈیو منقطع ہو گئی۔
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کو پروگرام کے دوران "نامعلوم" شخص کی دھمکی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی موبائل گرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ نہیں معلوم کیا ہوا ہے۔۔ pic.twitter.com/oxCWec0eos
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) December 25, 2025
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور سوال اٹھایا گیا کہ وہ شخص کون تھا جس نے لائیو پروگرام کے دوران احسن اقبال کو نشریات بند کرنے پر مجبور کیا۔ اس واقعے پر مختلف قیاس آرائیاں اور تبصرے بھی سامنے آئے۔
معروف صحافی اجمل جامی نے اس حوالے سے بتایا کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد انہوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال سے رابطہ کیا جنہوں نے بتایا کہ ان کے اسلام آباد میں واقع گھر پر خاندانی تقریب جاری تھی اسی دوران بچے اچانک ان کے مطالعہ خانے میں داخل ہو گئے تھے جس کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
After watching the clip, I spoke to @betterpakistan. He said there was a family gathering at his Islamabad residence when children unexpectedly entered his study. He rejoined the show shortly after. @WaseemBadami can confirm.
Paayen? @WaseemBadami ! https://t.co/NJwibH9VgB— Ajmal Jami (@ajmaljami) December 25, 2025
بعد ازاں احسن اقبال نے خود بھی اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تشویش کا اظہار کرنے والے تمام افراد کے پیغامات کا شکریہ۔ ان کے مطابق لائیو نشریات کے دوران مختصر خلل اس وقت پیش آیا جب قریب موجود ایک شخص کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ براہِ راست آن ایئر ہیں اور وہاں کسی بات پر بحث ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کچھ ہی دیر بعد دوبارہ انٹرویو میں شامل ہو گئے تھے اور امید ہے کہ اس معاملے کو بلاوجہ سیاسی رنگ نہیں دیا جائے گا۔
Thank you for the messages of concern. A brief disruption occurred during a live broadcast when someone nearby having an argument was unaware that I was live on air.
I rejoined the interview shortly afterward. I hope we can avoid unnecessary politicisation of this. https://t.co/c4opMKphqS— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) December 25, 2025
تاہم سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد احسن اقبال کی وضاحت سے مطمئن دکھائی نہیں دی اور اس واقعے پر مزید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سحرش مان نامی صارف نے دعویٰ کیا کہ شو کے دوران حملہ کرنے والے یا فون چھیننے والے کی آواز احسن اقبال صاحب کے بیٹے احمد اقبال کی ہے۔
شو کے دوران حملہ کرنے والے یا فون چھیننے والے کی آواز احسن اقبال صاحب کے بیٹے احمد اقبال کی ہے https://t.co/mWqj3DMqcB
— Sehrish Maan (@SMunirMaan) December 25, 2025
ثمینہ پاشا نے کہا کہ یہ بہت ہی حیران کن واقعہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کون اتنا طاقتور ہے جو دندناتے ہوا آیا اور موبائل چھین لیا؟ اور کیوں؟
بہت ہی حیران کن واقعہ ہے۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون اتنا طاقتور ہے جو دندناتے ہوا آیا اور موبائل چھین لیا؟ اور کیوں؟ https://t.co/EVED2AeaAf
— Samina Pasha (@pasha_samina) December 25, 2025
احسن واحد نے کہا کہ احسن اقبال کے ساتھ آج جو ہوا قابل افسوس ہے لیکن اس سے زیادہ قابل رحم صورتحال یہ ہے کہ احسن اقبال صاحب کھل کر وہ صورتحال بتانے سے بھی گریزاں ہیں اور جس طرح معاملات بتانے یا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں ویسا بالکل نہیں ہے یہ سب جانتے ہیں۔
احسن اقبال کیساتھ آج جو ہوا قابل افسوس ہے ۔۔ لیکن اس سے زیادہ قابل رحم صورتحال یہ ہے کہ احسن اقبال صاحب کھل کر وہ صورتحال بتانے سے بھی گریزاں ہیں اور جس طرح معاملات بتانے یا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں ویسا بالکل نہیں ہے یہ سب جانتے ہیں
— Ahsan Wahid (@AhsanWahid13) December 25, 2025
بلال غوری کہتے ہیں کہ احسن اقبال صاحب نے کچھ دیر بعد پروگرام دوبارہ جوائن تو کرلیا اور بتایا کہ سب ٹھیک ہے مگر جس طرح کسی نے چیخ کر کہا بند کرو، اس سے یہ کوئی گھریلو معاملہ نہیں لگ رہا۔احسن اقبال صاحب ہی بتاسکتے ہیں کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟
احسن اقبال صاحب نے کچھ دیر بعد پروگرام دوبارہ جوائن تو کرلیا اور بتایا کہ سب ٹھیک ہے مگر جس طرح کسی نے چیخ کر کہا بند کرو ،اس سے یہ کوئی گھریلو معاملہ نہیں لگ رہا۔احسن اقبال صاحب ہی بتاسکتے ہیں کہ اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے ؟ pic.twitter.com/HvyKHObLAf
— Bilal Ghauri (@mbilalghauri) December 25, 2025
کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ زبردستی کال بند کرانے کے بعد احسن اقبال پر تشدد ہوا ہے ان کی آنکھ سوجھی ہوئی ہے اور آواز میں بھی درد ہے۔
احسن اقبال کی پہلے اور بعد کی تصویر میں واضح فرق ہے شائد تشدد ہوا ہے pic.twitter.com/i6kSG0mG5p
— Kamran Khan (@GKamranKhan) December 25, 2025














