پراپرٹی اونرشپ کیس، عدالتی حکم کے باوجود قبضہ دلوایا گیا تو نتائج بھگتنا ہوں گے: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

جمعہ 26 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت زمینوں پر قبضے کے معاملات پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر عدالتی حکم کے بعد کسی نے زمینوں پر قبضے دلوائے تو نتائج کے لیے تیار رہے۔

یہ ریمارکس پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے گئے۔ سماعت کے دوران وہ شہری بھی عدالت میں پیش ہوا جس نے ڈی آر سی (ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی) کے ذریعے زمین کا قبضہ حاصل کیا تھا۔

عدالت نے فوری حکم دیتے ہوئے ڈی آر سی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ واپس کرنے کی ہدایت کر دی۔

یہ بھی پڑھیے لاہور ہائیکورٹ: پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا، چیف جسٹس کے سخت ریمارکس

چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ غلط کام کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں؟

اس پر وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ڈی سی کے ماتحت بننے والی کمیٹیوں نے اختیارات سے تجاوز کیا۔
چیف جسٹس نے جواب دیا کہ  پہلے قبضہ واپس کریں، پھر آگے بات کریں گے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے مزید ریمارکس دیے کہ کیوں نہ ان کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے؟ وکیل خود مان رہا ہے کہ ڈی سی نے اختیارات سے تجاوز کیا۔ اگر پٹواری بروقت اپنا کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ جب سسٹم کو بائی پاس کریں گے تو یہی ہوگا۔

سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہ ملے تو لوگ کہاں جائیں؟
اس پر چیف جسٹس نے سخت لہجے میں کہا
’اخباری سرخیاں لگوانے کے لیے یہاں ڈائیلاگ نہ ماریں۔ یہ حقیقت ہے کہ یہاں کیسز کے فیصلے نہیں ہوتے، مجھے معلوم ہے یہاں کتنے پرانے مقدمات زیر التوا ہیں، جذباتی باتیں نہ کریں۔‘

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ دیپالپور میں اس کی 40 ایکڑ اراضی پر مخالفین قابض ہیں اور ڈی آر سی کمیٹیوں نے صرف 27 دنوں میں قبضہ دلوایا۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ یہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟ کمیٹی کا قبضے کا حکم دینا مس کنڈکٹ ہے۔

وکیل نے ایک بار پھر تسلیم کیا کہ ڈی سی نے غلط فیصلہ دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ قانون کے تحت ان کے پاس ایسا اختیار ہی نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے پنجاب میں 90 روز کے اندر زمینوں سے قبضہ ختم کروانے کا طریقہ کار کیا ہے؟

وکیل نے استدعا کی کہ عدالت ڈی سی کو دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت دے دے، جس پر چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ڈی سی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ یہ اختیار کسی اور کا ہے۔ میرے سامنے یہ مسئلہ نہیں کہ آپ پراپرٹی کے مالک ہیں یا نہیں، میرے سامنے سوال یہ ہے کہ ڈی سی کو فیصلہ کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔

وکیلِ درخواست گزار نے بتایا کہ آرڈیننس معطل ہونے کے بعد بھی 24 دسمبر کو گوجرانوالہ میں ایک ایکڑ پراپرٹی کا قبضہ دلایا گیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے ایک بار پھر تنبیہ کی کہ عدالتی حکم کے بعد اگر کسی نے قبضے دلوائے تو نتائج کے لیے تیار رہے۔

آخر میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ڈی آر سی کمیٹی کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے معاملہ فل بینچ کو بھجوا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم