نظام شمسی کا سب سے چھوٹا اور سورج کے سب سے قریب واقع سیارہ عطارد (مرکری) برسوں سے ماہرین فلکیات کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سال 2025 میں بیرونی سیاروں کی کھوج اور ناسا کے دیگر کارنامے
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اپنی حجم، ساخت اور مقام کے اعتبار سے عطارد سیاروں کی تشکیل سے متعلق موجودہ سائنسی نظریات کو چیلنج کرتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جتنی معلومات ہمارے پاس ہیں ان کے مطابق عطارد کو تو وجود میں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔
بظاہر عطارد ایک بے جان اور غیر دلچسپ سیارہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی سطح بنجر ہے، ماضی میں پانی کے شواہد نہیں ملتے اور اس کا ماحول (فضا) نہایت کمزور ہے۔ یہاں زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن گہرائی میں دیکھا جائے تو عطارد ایک حیران کن اور پراسرار دنیا ہے۔
مزید پڑھیے: خلا بازوں نے ریاضی میں حیران کن دریافت کرلی، یہ زمین پر کیوں ناممکن تھی؟
عطارد زمین سے تقریباً 20 گنا کم وزنی ہے اور اس کا حجم آسٹریلیا سے بھی کچھ زیادہ نہیں مگر حیرت انگیز طور پر یہ زمین کے بعد نظام شمسی کا دوسرا سب سے زیادہ کثافت والا سیارہ ہے۔ اس کی وجہ اس کا غیر معمولی طور پر بڑا لوہے سے بھرپور مرکزی کور (core) ہے جو سیارے کے تقریباً 85 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔
سیارے کی پیدائش ایک معمہ
ماہرین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عطارد بنا کیسے؟ دیگر سیاروں جیسے زمین، زہرہ اور مریخ میں کور، مینٹل اور پرت کا توازن موجود ہے لیکن عطارد میں پتھریلی تہہ نہایت پتلی ہے اور زیادہ تر حصہ دھاتی کور پر مشتمل ہے۔
ناسا کے Mariner 10 مشن (1974–75) اور بعد ازاں Messenger مشن (2011–15) نے عطارد کے بارے میں کئی حیران کن انکشافات کیے۔ ان مشنز سے معلوم ہوا کہ عطارد پر شدید درجہ حرارت پایا جاتا ہے جو دن میں 430 ڈگری سینٹی گریڈ تک اور رات میں منفی 180 ڈگری سینٹی گریڈ تک۔
اس کے باوجود وہاں پوٹاشیم، تھوریئم، کلورین جیسے نازک عناصر اور یہاں تک کہ قطبی گڑھوں میں پانی کی برف بھی موجود ہے جو سورج کے اتنے قریب ہونے کے باعث ختم ہو جانی چاہیے تھی۔
مزید پڑھیں: خانہِ کعبہ خلا سے ہیرے کی مانند چمکتا نظر آتا ہے، ناسا کی تصویر نے دنیا کو حیران کر دیا
یہ دریافت اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ شاید عطارد اپنی موجودہ جگہ پر بنا ہی نہیں تھا۔
کیا ایک عظیم تصادم ہوا؟
ایک مقبول نظریہ یہ ہے کہ عطارد ابتدا میں کہیں زیادہ بڑا تھا۔ یہ شاید مریخ کے برابر ہی تھا لیکن کسی عظیم تصادم کے نتیجے میں اس کی بیرونی تہیں اکھڑ گئیں اور صرف بھاری دھاتی کور باقی رہ گیا۔ تاہم اس نظریے میں بھی مسائل ہیں کیونکہ اتنے شدید تصادم میں عطارد کے نازک عناصر کا محفوظ رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
ایک اور خیال یہ ہے کہ عطارد خود کسی دوسرے سیارے سے ٹکرایا اور اس عمل میں اس کا زیادہ تر مینٹل ختم ہو گیا۔ کچھ سائنس دان یہ بھی مانتے ہیں کہ عطارد سورج کے بہت قریب لوہے سے بھرپور مادّے سے بنا جہاں ہلکے عناصر بخارات بن کر اڑ گئے۔
سیاروں کی ہجرت کا نظریہ
ایک جدید نظریہ یہ بھی ہے کہ نظام شمسی کے اندرونی سیارے اپنی موجودہ جگہوں پر پیدا نہیں ہوئے بلکہ وقت کے ساتھ اپنی جگہ بدلتے رہے۔ ممکن ہے زمین اور زہرہ آگے بڑھ گئے ہوں اور عطارد پیچھے رہ گیا ہو جس کی وجہ سے اس کی نشوونما ادھوری رہ گئی۔
بیپی کولمبو مشن سے امیدیں
یورپی اور جاپانی خلائی اداروں کا مشترکہ مشن BepiColombo جو سنہ 2018 میں روانہ ہوا تھا نومبر 2026 میں عطارد کے مدار میں داخل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
یہ مشن سیارے کی سطح، اندرونی ساخت، کششِ ثقل اور کمزور مقناطیسی میدان کا تفصیلی مطالعہ کرے گا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ یہ مشن عطارد کی اصل اس کے غیر معمولی کور اور نازک عناصر کی موجودگی جیسے سوالات کے جوابات دے سکے گا۔
ابھی راز برقرار ہے
فی الحال عطارد کی پیدائش ایک حل نہ ہونے والا راز بنی ہوئی ہے۔ ممکن ہے یہ محض ایک نایاب اتفاق ہو یا پھر سیاروں کی تشکیل کا ایک قدرتی مگر کم سمجھا گیا نتیجہ۔
ظاہری طور پر اگرچہ عطارد ایک خاکستری اور گڑھوں سے بھرا سیارہ ہے لیکن اس کے اندر چھپا راز اسے نظامِ شمسی کی سب سے دلچسپ دنیاؤں میں شامل کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: سیارہ زحل پر زندگی کے مزید آثار مل گئے، سائنسدانوں کے نزدیک اہم ترین پیشرفت
سائنس دانوں کے مطابق شاید عطارد ایک ایسا سیارہ ہے جو اکثر کائناتی کہانیوں میں وجود ہی نہ پاتا مگر ہماری کائنات میں یہ موجود ہے۔














